الاوان، ویقع فی الشہر الذی أنزل اللّٰہ فیہ القرآن، وتنکسف الشمس فی النصف منہ۔ یعنی فی نصف من أیام کسوفہا المعلومۃ عند أہل العرفان، فی ذالک الشہر المُزان۔ وأخرج مثلہ البیہقی وغیرہ من المحدثین۔ وقال صاحب الرسالۃ الحشریۃ، وہو فی ہذہ الدیار من مشاہیر علماء ہذہ الملّۃ، أن القمر والشمس ینکسفان فی رمضان، وإذا انکسفا فیعرف المہدی بعدہ أہل مکۃ بفراسۃ یزید العرفان۔ وفی روایات أخری من بعض الصلحاء أن المہدی لا یُعرفُ إلَّا بعد آیات کثیرۃ تنزل من السماء ، وأما فی أوّل الأمر
سورج کے تین دنوں میں سے جو اس کے کسوف کے لئے مقرر ہیں ۔ بیچ کے دن میں کسوف ہو گا ۔ اور یہ بھی اسی رمضان میں ہو گا ۔
ایسا ؔ ہی بیہقی اور دوسرے محدثوں نے لکھا ہے اور صاحب رسالہ حشریہ نے بھی یہ بیان کیا ہے کہ یہ کسوف خسوف رمضان میں ہو گا اور اس کے بعد مہدی مکہ میں شناخت کیا جائے گا اور بعض صالحین سے ایک یہ بھی روایت ہے کہ مہدی اس وقت پہچانا جا ئے گا کہ جب بہت سے نشان آسمان سے ظاہر ہوں گے ۔
مگر اوائل امر میں اُس کی تکفیر اور
از روز ہائے کسوف او کہ سہ روز اند تیرہ گردد واین ہم در رمضانؔ اتفاق افتد۔ و ہم چنیں بیہقی و محدثین دیگر آوردہ اند وصاحب رسالہ حشریہ کہ از مشاہیر علمائے ایں دیار است گوید این خسوف و کسوف در رمضان بشود و بعد ازاں اہل مکہ مہدی را خواہند شناخت۔ و بعضے از صلحا بر آنند کہ مہدی بعد از ظہور کثرت نشانہا از آسمان شناختہ شود۔ ولے اولًا چارۂ ازایں نہ کہ نسبت بہ وے فتوی تکفیر د ہند و دجل و تلبیس بہ او منسوب کردہ شود و دربارۂ او آں ہمہ گفتہ شود آنچہ کفّار پیشیں نسبت بہ انبیاء گفتہ اند