خلافہ عند أہل التحقیق والمعرفۃ
فما رأی ہذا الظان العسوف فی آیۃ الخسوف والکسوف۔ أتلک کید الإنسان أو شہادۃ من اللّٰہ الولیّ الرؤوف۔ وأما تفصیل ہذہ الآیۃ کما ورد فی کتب الحدیث من آل خیر المرسلین۔ فاعلموا یا حزب المؤمنین المتقین أن الدارقطنی قد روی عن محمد الباقر من* بن زین العابدین، وہو من بیت التطہیر والعصمۃ ومن قوم مطہّرین، قال قال رضی اللّٰہ عنہ وہو من الأمناء الصادقین انّ لمہدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السماوات والأرضون، ینکسف القمر لأول لیلۃ من رمضان۔ یعنی فی أول لیلۃ من لیالی خسوفہ ولا یُجاوز ذالک
کی طرف سے ایک گواہی ہے ۔
مگر اس نشان کی تفصیل جیسا کہ کتب حدیث میں آلِ خیر المرسلین سے مذکور ہے ۔ یہ ہے کہ دار قطنی نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ
ہمارے مہدی کے دو نشان ہیں کہ جب سے کہ زمین و آسمان پیدا کئے گئے کبھی ظہور میں نہیں آئے یعنی یہ کہ قمرکی پہلی رات میں اس کی تین راتوں میں سے جو خسوف کیلئے مقرر ہیں خسوف ہو گا ۔ اور
ثمرہ مساعی مخفیہ بودہ باشد۔ در پاسخ این بد گمان مشکک می گوئیم کہ دربارۂ خسوف و کسوف چہ گمان می داری۔ آیا آں ہم از تدابیر مخفیۂ انسانی است یا از قبل خدا گواہ آسمانی۔ اماتفصیل این نشان از روئے کتب احادیث آنکہ دار قطنی از امام محمد باقر رضی اللہ عنہ روایت کند کہ برائے مہدئ ما دو نشان است کہ از آغاز آفرینش زمین و زمان ہرگز پدیدار نشدہ و آن این ست کہ قمر در شب اول از شب ہائے خسوف او کہ سہ شب می باشند منخسف گردد۔ و ایں خسوف در رمضان واقع بشود و آفتاب در روز وسط