وجرّد آیہ کالعضب الجراز لیُفحم کل من نہض للبراز ولیتم حجتہ علی المنکرین۔ فإن ظن ظانّ أن ظہوری عند سطوۃ النصرانیۃ، وعند سیل الصلیب، وعلی رأس الماءۃ، لیس بدلیل قاطع علی أنّنی من الحضرۃ، وکذالک إن زعم زاعم أن إملا ئی فی اللسان العربیۃ وما حوت معرفتی من اللطائف الأدبیۃ، وکلّ ما أُرضعت ثدی الأدب فی ہذہ اللّہجۃ، لیس بثابت أنہا من آی اللّٰہ ذی الجلال والعزّۃ، بل یجوز أن یکون ثمرۃ المساعی المستورۃ المستترۃ، وأن الأرض لا تخلو من کید الکائدین اور پنے نشانوں کو شمشیر تیز کی طرح ننگا کیا تا ہر ایک شخص جو مقابلہ کیلئے کھڑا ہو اس کو لا جواب کرے اور منکروں پر اپنی حجت پوری کرے ۔ اور اگر کوئی یہ گمان کرے کہ غلبہ نصرانیت کے وقت میں میرا ظاہر ہو نا اور صلیب کی طغیانی کے وقت میں اور نیز صدی کے سر پر میرا آنا اس بات پر قطعی دلیل نہیں کہ میں جناب الٰہی کی طرف سے ہوں اور اسی طرح اگر کوئی یہ گمان کرے کہ میرا عربی کتابوں کا لکھنا اور لطائف ادبیہ کا بیان کرنا یہ خدا کا نشان نہیں ہو سکتا اور جائز ہے کہ یہ اپنی پوشیدہ کوششوں کا ثمرہ ہو ۔ سو ایسا ظن کرنے والا خسوف و کسوف میں کیا گمان کرے گا۔ کیا یہ بھی انسانی مکر ہے یا خدا تعالیٰ راستی وانمود و نشانہائے خود را چوں شمشیر تیز برہنہ کرد تا ہرکہ پادر مقابلہ اش بیفشرد زبانش را از کار بیند ازو و بر منکرین اتمام حجت بنماید۔ اگر کسے گمان کند کہ ظہور من در ہنگام استیلائے صلیب و غلبہ نصرانیت و ہم بروز من بر رأس صد دلیل قطعی بجہت آں نیست کہ من از قبل خداوند تعالیٰ شانہ می باشم و ہم چنیں اگر کسے بر زبان آرد کہ تالیف کتب عربیہ و بیان لطائف ادبیہ کہ از دست من سر انجام پذیر فتہ نشانے ازطرف خدا نمی باشد بلکہ احتمال دارد کہ ایں ہمہ