ومن آیاتی الخسوف والکسوف فی رمضان، وقد فصّلت فی رسالتی ’’نور الحق‘‘ ہذا البرہان۔ وکنت لم أزل ینتابنی نصر اللّٰہ الکریم إلی أن ظہرت ہذہ الآیۃ من ذالک المولی الرحیم۔ وکان مکتوبا فی الأحادیث النبویّۃ أن ہذہ للمہدی وظہورہ من الدلائل القطعیۃ، فالحمد للّٰہ الذی أجزل لنا طولہ وأنجز وعدہ وأتم قولہ، وأری آیات السماء ویَسَّرَ للطالبین طرق الاہتداء ، وأظہر سناہ لمن أمّ مسالک ہُداہ، وکشف الأمر لأولی النہی وأرَی الحقَّ لمن یریٰ، اور تحقیق کے نزدیک اصل امر اس کے بر خلاف ہے ۔ اور میرے نشانوں میں سے وہ خسوف اور کسوف ہے جو رمضان میں ہوا تھا چنانچہ میں اپنے رسالہ نور الحق میں اس کا مفصّل بیان کر چکا ہوں اور مجھے ہمیشہ مسلسل طور پر خدا تعالیٰ کی مدد پہنچتی تھی یہاں تک کہ یہ نشان ظاہر ہوا ۔ اور احادیث نبویہ میں لکھا ہو اتھا کہ یہ نشا ن مہدی اور اس کے ظہور کے لئے قطعی دلائل میں سے ہے ۔ پس خدا تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اپنی بخشش کو ہم پر کمال تک پہنچایا اور اپنے وعدہ کو پورا کیا اور اپنے نشان دکھلائے اور طالبوں کے لئے ہدا یت پانے کی راہ کھول دی اور اپنی روشنی کو راہ چلنے والوں کے لئے ظاہر کیا اور عقلمندوں کے لئے حقیقت امر کو کھولا اور دیکھنے والوں کو حق دکھلایا۔ اہل تحقیق اصل امر را بر خلاف آں می بینند ۔ و از جملہ نشانہائے من خسوف و کسوف است کہ در شہر رمضان واقع شد۔و در رسالہ نور الحق مفصلًا ازاں ذکر کردیم۔ و متّصلًا مرا از پرور دگار یاری می رسیدہ است تا اینکہ ایں نشان از خدا بظہور آمد۔ و در احادیث آمدہ کہ ایں نشان از دلائل قطعیہ ظہور مہدی و۔۔۔۔ وجود او باشد۔ خدا را شکر است کہ نعمتہائے خود را بر ما با تما م وا کمال رسانید۔ و وعدہ را ایفا و نشان ہارا ظاہر کرد و راہ جو یان را طریق ہدایت باز فرمود و قاصدان راہ خود را چرا غے فراراہ بد اشت و جہت خرد مند ان پردہ از روئے کار بکشود و بینندہ ہارا