یُضاہی دعوی القرآن، فہو بعید من حسن الأدب و الإیمان۔ وما ہو إلاَّ قول الذین ما عرفوا حقیقۃ الولایۃ، وأعتراہم ظلام العمایۃ والغوایۃ۔ وقد سبق البیان منّا أن الکرامات ظلال باقیۃ للمعجزات، وموجبۃ لزیادۃ البرکات، وتجد السُنّۃ والکتاب مُبیِّنَیْنِ لہذہ المسألۃ، وشاہدیْن علی ہذہ الواقعۃ۔ ولا تجد من یُخالفہا إلَّا غویّا من العامۃ، فإن أبصار العامّۃ لا تبلغ الحقائق ویعمأ علیہم دقائق الشریعۃ، فیحسبون فی کمالات الولایۃ کسر شأن النبوّۃ، مع أن الأمر دعویٰ سے مشابہ ہے۔ اس لئے یہ حسنِ ادب اور ایمان سے دور ہے ۔ مگر یہ ان لوگوں کا قول ہے جن کو ولایت کی حقیقت پر اطلاع نہیں اور نا بینائی کا اندھیرا ان کے طاری حال ہو رہا ہے اور ہم پہلے اس سے ذکر کر چکے ہیں کہ کرا مات معجزات کا دا ئمی سایہ ہیں اور برکاتِ نبوت کے زیادہ ہو نے کا موجب ہیں ۔ اور تو سنت اور قرآ ن کو اس مسئلہ کے بیان کرنے والے پائے گا اور اس واقعہ پر گواہ دیکھے گا۔ اور بجز ایک گمراہ اور عاصی آدمی کے اور کوئی شخص اس سے انکا ر نہیں کر سکتا کیونکہ عام لوگوں کی آنکھیں حقیقتوں تک نہیں پہنچتیں اور دقائق شریعت ان پر چھپے رہتے ہیں اس لئے وہ لوگ ولایت کے کمالات میں نبوت کی کسرِشان دیکھتے ہیں باوجودیکہ اہل معرفت و طریق ایمان دور است۔ اما ایں گفتار نا بلدان کوچۂ معرفت و شبپران تاریک نہاد است۔ قبلًامذکور گردیدہ است کہ کرامات سایہ دائم غیر منفکہ معجزات و موجب از دیاد برکات نبوت بودہ اند۔و سنت و قرآن بیان شافی ایں مسئلہ را می کنند و گواہ عادل ایں واقعہ می باشند۔ و غیر از مرد عاصی و گمراہ ہیچ کس را مجال انکار برآں نہ چہ عوام بہرہ از ادراک حقائق نیافتہ اند و دقائق شریعت براوشاں مستورمی مانند۔ ازینجا است کہ انہادر کمالات ولایت کسر شان نبوت گمان مے برند حال آنکہ اصحاب معرفت و