وسینال الکاذبین خزیٌ ونصبٌ من العذاب اللازب، فاتقوا اللّٰہ إن کنتم مؤمنین۔ فما کان لہم أن یأتوا بمثل کلامی أو یتوبوا بعد إفحامی، وظہرت علی وجوہہم سواد وقحول، وضمر وذبول، وغشیہم حین وإحجام، وجہلوا کل ما صلفوا ولم یبق لہم کلام۔ وجاء نی حزبًا منہم تائبین، وکثیر حق علیہم ما قال خاتم النبیین علیہ الصلاۃ والتحیات من ربّ العالمین۔ ثم اعلموا یا حزب السامعین۔ إن ہذہ آیۃ استفدتہ من روحانیۃ خیر المرسلین بإذن اﷲ رب العالمین۔ وقال السفہاء من الناس إنہ دعوی
اور جو جھوٹے ہیں ان کو ذلت اور لازمی عذاب پہنچ رہے گا ۔ پس اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا تعالیٰ سے ڈرو ۔مگر ان لوگوں نے نہ تو میری کلام کی نظیر پیش کی اور نہ اپنے انکار سے باز آئے۔ اور ان کے منہ پر سیاہی اور خشکی اور لاغری اور گدا زش ظاہر ہو گئی اور نامرادی اور پیچھے ہٹنا ان کے لاحق حال ہو گیا اور تمام لاف وگزاف کو بھول گئے اور کلام کرنے کی جگہ نہ رہی اور بہتوں نے توبہ کی اور بہتوں پر قول آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا صادق آیا ۔ پھر اے سننے والو یہ بھی یاد رکھو کہ میں نے اس نشان کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی روحا نیت سے لیا ہے اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ اور بعض نادانوں نے کہا کہ یہ دعویٰ قرآن کے
و کاذب زود رسوائی و رنج لازم خواہد دید۔اگر شمۂ از ایمان دارید از خد ابتر سید۔ ولے بااین ہمہ نہ نظیر ے در برابر کلام من آوردندو نہ از انکار و اصرار دست باز داشتند۔ و سیاہی و لاغری و گدازش بر روئے شاں آشکار شدو بد دلی و پس نشستن لاحق حال شاں گشت وہمہ لاف و گزاف از یاد رفت و جائے سخن نماند۔آخر بسیارے باز آمدند و بر بسیارے قول حضرت سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وسلم ) صادق آمد۔ بر سامعین پوشیدہ نماند کہ من ایں نشان را از روحانیت حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) بدست آوردہ ام۔ و این ہمہ باذن اللہ بر روئے کار آمدہ۔ بعضے از نادان گفتند این چنیں دعویٰ مشابہت با دعویٰ قرآن دارد۔ لہٰذا از حسن ادب