ہذہ وتحسبونہا ہذیانی، وتزعمون أنی فی قولی ہذا من الکاذبین فأتوا بکتاب من مثلہا إن کنتم صادقین۔ وإن کان الحق عندکم کما أنّکم تزعمون، فسیُبدی اللّٰہ عزّتکم ولا تُغلبون ولا ترجعون کالخاسرین، فلا یُعاتبکم بعدہ مُعاتب، ولا یزدریکم مُخاطب، ویستیقن الناس أنّکم من الأمناء ومن الصالحین۔ وإن کنتم لا تقدرون علیہ لقلّۃ العلم والدّہاء، فانہضوا وادعوا مشہورین منکم بالتکلم والإملاء ، والمعروفین من الأدباء۔ وإنی عرضت علیکم أمرا فیہ عزۃ الصادق وذلّۃ الکاذب، ایمان نہیں اور گمان کرتے ہو کہ میں کاذب ہوں۔ پس تم بھی کوئی ایسی کتاب بنا کر لاؤ اگر تم سچے ہو۔ اور اگر تم حق پر ہو گے جیسا کہ تمہارا گمان ہے ۔ پس خدا تعالیٰ ضرور تمہاری عزت ظاہر کرے گا اور غالب ہو گے اور تمہیں کچھ نقصان نہیں ہو گا ۔ پھر بعد اس کے کوئی عتاب کرنے والا تمہیں عتاب نہیں کرے گا اور کوئی مخاطب عیب گیری پر قادر نہیں ہو گا اور لوگ یقینؔ کر لیں گے کہ تم امین اور صالح ہو ۔ اور اگر تم بباعث قلت علم اور عقل کے مقابلہ کی قدرت نہیں رکھتے ۔پس اٹھو اور ان لوگوں کو بلا لو جو تحریر اور تقریر میں تم میں مشہور ہیں اور ادیب ہونے میں شہرت رکھتے ہیں اور میں نے ایسا امر تم پر پیش کیا ہے جس میں سچے کی عزّت اور جھوٹے کی ذلت ہے و بیان و تبیان مرا بچشم انکار می بینید و بایں نشان من ایمان نمی آرید۔ و این را ہرزہ درائی و ژاژخائی برمی شمارید لازم کہ کتابے مثل آں بیار ید اگر بوئے از راستی دارید۔ و اگر شماراست استید بر وفق آنچہ می پندارید البتہ خدا دست شمارا بالاکندو بزرگی شماپدیدارگردد و زیانے بشمانہ رسد و پس ازان ہیچ نکوہندۂ شمار انفرین نکند و مخاطبے درپئے خوردہ گیرئی شمانشود۔و مردم خواہند دانست کہؔ شما در حقیقت امانت گزار و راست کار ہستید۔ و اگر شما بہ سبب قلتِ علم و عقل مرد میدان مقابلہ نیستید بر خیزید و آں مرد مان را جمع آرید کہ در تحریر و تقریر از میانہ شما سر بر آوردہ ونامی می باشند و بر ادب نازہا دارند۔ و من امرے در پیش شما اظہار کردم کہ باعث بر عزّتِ صادق وذلّت کاذب خواہد بود