عرضتہا علی العلماء وقلت والأمر کان کذالک لولا التأیید من حضرۃ الکبریاء، فالآن أُیّدتّ من الحضرۃ، وعلّمنی ربّی من لدنہ بالفضل والرحمۃ، فأصبحت أدیبًا ومن المتفرّدین۔ وألّفت رسائل فی حُلل البلاغۃ والفصاحۃ، وہٰذہ آیۃ من ربی لأولی الألباب والنصفۃ، وعلیکم حُجّۃ اللّٰہ ذی الجلال والعزّۃ۔ فإن کنتم من المرتابین فی صدقی وکمال لسانی، والمتشککین فی حسن بیانی وتبیانی، ولا تؤمنون بآیتی العقیدۃ التی ھی مشہورۃ بین المسلمین وسمعتموھا ذات المرار من المحدثین۔ فانما ھی کلم کشفیۃ خرجت من فم خیر المرسلین۔و اخطأ فیھما بعض المؤلّین۔ و حملوھا علٰی ظواھرھا و کانوا فیہ خاطئین۔ والاٰن حصحص الحق و ترای الصراط لقوم طالبین۔ منہ اور در حقیقت میں ایسا ہی تھا اگر خدا تعالیٰ کی تائید میرے شامل حال نہ ہوتی ۔ پس اب اللہجلّ شانُہٗ نے میری تائید کی اور خاص فضل اور رحمت سے اپنے پاس سے میر ی تعلیم فرمائی۔ سو اب میں ایک ادیب اور متفرد انسان ہو گیا اور میں نے کئی رسالے بلاغت اور فصاحت کا لباس پہنا کر تالیف کئے پس دانشمندوں اور منصفوں کے لئے میری طرف سے یہ ایک نشان ہے اور خداتعالیٰ کی تم پر یہ حجت ہے ۔ پس اگر تم میری سچائی اور میری کمال زبان دانی میں شک رکھتے ہو اور میرے بیان اور عمدہ طور پر اظہار مطالب میں تمہیں کچھ شبہ ہے اور میری اس شان پر میں مشہور اور حدیثوں میں کئی مرتبہ اس کا ذکر آیا ہے وہ در حقیقت کشفی کلمے ہیں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے تھے ۔ ان کی تاویل میں بعض لوگوں نے غلطی کھائی ہے اور ان کو ان کے ظاہر پر حمل کر بیٹھے اور اس میں خطا کی اور اب حق ظاہر ہو گیا اور طالبوں کے لئے راہ راست نمو دار ہو گیا ۔ منہ و در حقیقت ہم چنین بودم اگر فضل و رحمت خد ادست مرا نمی گرفت۔ اینک اکنوں تائید ایزدی پشت مرا بکوفت و از محض فضل و کرم از خود مرا بیاموخت۔ چنانچہ اکنوں ادیبے یگانہ گردیدم و کتبے چند کہ از فصاحت وبلاغت مشحون اند تالیف و چاپ کردم۔ و ایں نشانے است سترگ از برائے خرد وران و دانشمندان وہم از خدا حجتے بر شمااست۔ و اگر نسبت بکمال ادب و راستی من ہنوز در پندار د گمان استید