یا حزب الفضلاء والأدباء ! إنکم حسبتمونی أُمّیًّا ومن الجہلاء، ھو شان الکمل من الامۃ۔ وکذالک وجد ارثا من کمالات ابن مریم علیہ سلام اللّٰہ و علی نبیّنا الذی جعلہ اللّٰہ اشرف واکرم۔ ولما کانت حقیقۃ المسیح الموعود معمورۃ فی الحقیقتین المذکورتین۔ ومضمحلۃ متلاشیۃ فیھما ومنعدم العین ومستتبعۃ لصفا تھما فی الدارین۔ غلب علیھا اسمھما ولم یبق منھا اسم و رسم فی الکونین۔ وانعدم المغلوب و بقی فیہ اسم الغالب و تقرر لہ فی السماء اسم ھٰذین المبارکین۔ ھٰذا ما اوقعہ اﷲ فی بالی۔ و تلقاہ حدسی و فراستی من لدن ربی لاکمالی۔ وامّا میں نے اس ملک کے علما ء پر وہ کتابیں پیش کیں اور کہا کہ اے فاضلو اور ادیبو! تمہارا میری نسبت یہ گمان تھا کی میں اُ مّی اور جاہل ہوں پائے ۔ ان پر اور ہمارے نبی پر سلام ہو۔ اور جبکہ مسیح موعود کی حقیقت ان دونوں مذکورہ حقیقتوں میں غرق تھی اور ان میں مضمحل اور متلاشی تھے اور ان کی صفتوں کے پیرو تھے اس لئے ان دونوں بر گزیدوں کا نام اس پر غالب ہوا اور اس کا اپنا نام و نشان کچھ نہ رہا اور مغلوب معدوم ہو گیا اور غالب کا نام رہ گیا ۔ اوراس کے لئے آسمانوں پر ان دونوں مبارکوں کے نام رہ گئے ۔ یہ وہ سرّ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا اور خداتعالیٰ کی طرف سے میری فراست نے اس کو قبول کیا ۔ مگر وہ امر جو مسلمانوں و در پیش علماء ایں بلاد عرض نمودم و گفتم اے فضلاء و ادباشما ہا نسبت بمن گمان دا شتید کہ من مردجاہل و اُ مّی ہستم۔ مسیح موعود را ظلاًّ تشریف آن شان عطا فرمودندتا او۔۔۔۔۔ ازیں حلیہ و طبیعت عاری ماندہ ازین کمال محروم نماند۔ زیرا کہ حرمان شایاں شان اظلال نمی باشد۔ آخر مسیح موعود ازاں درخت۔۔۔ میوۂ تازہ و تر یافت و ظلّیت نبوت در آب خودش غوطہ بداد چنانچہ شان کا ملان امت بودہ است ۔ منہ