أبواب نوادر العربیۃ واللطائف الأدبیۃ، حتی أملیت فیہا
رسائل مبتکرۃ وکتبا محبّرۃ، ثم
من ذالک وشطر من ھٰذا۔ والبعض لبعض اٰخر حاذا۔و روحانیتھما ساریۃ فی وجودہ۔ بل انما ھی نار وقودہ۔ ظہر تافیہ علٰی طور البروز۔وھمابوجودہ کالسرالمرموز۔وکان من الشیون المحمدیۃ بلاغۃ الکلام۔ کما اشار الیہ اعجاز کلام اﷲ العلَّام۔ فاعطی من حظ للمسیح الموعود۔ لیدل علی الظلّیۃ واتحاد الوجود۔ لئلَّا یکون طبیعتہ فاقدۃ لھٰذا الکمال۔ فانّ الحرمان لایلیق بشان الظلال۔ فوجد غضا طریّا من ھٰذہ الشجرۃ الطیبۃ۔ وغمرہ ماء ظلیۃ النبوۃ کما
نوادر اور لطائف ادب کے دروازے میرے پر کھو لے گئے یہا ں تک کہ میں نے عربی میں کئی نو طرز رسالے اور بلاغت سے آراستہ کتابیں تالیف کیں۔ پھر
اور کوئی جز اس کا اس میں موجود ہے اور بعض بعض کے مقابل پر واقع ہیں اور دونوں کی روحانیت اس کے وجود میں سرایت کرنے والی ہے بلکہ وہ روحانیت اس کے ہیزم کی آگ ہے اور دونوں اس میں بطور بروز ظاہر ہوئی ہیں اور اس کے وجود کا وہ بھید ہیں اور محمدی نشانوں میں سے ایک بلاغت تھی جیسا کہ قرآن شریف اس کی طرف اشارہ فرما رہا ہے ۔ پس مسیح موعود کو ظلّی طور پر وہ نشان عطا کئے گئے تاکہ اس کی طبیعت اس کمال سے خالی نہ ہو کیونکہ محروم ہونا ظلّکی شان سے بعید ہے ۔ پس مسیح موعود نے اس پاک درخت سے تا زہ و تر میوہ پایا اور نبوت کی ظلّیت نے اس کو اپنے پانی میں ڈھانک لیا جیسا کہ امت کے کاملوں کی شان ہے اور اسی طرح اس نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے کمالات بطور ورثہ
لطائف عربیت و نوادرش بر روئے من باز کردند۔چنانچہ رسالہ ہائے چند بطرز نوو پُر از فصاحت در لسان تازی تالیف دادم
پارہ ازین و بہرہ ازان در وے موجود۔ پارہ با پارۂ در برابر ایستادہ و روحانیت ہر دو بوجود ش در گرفتہ بلکہ آں روحانیت ہیزم آتش اوست و آں ہر دو بروزاًدر وے ظاہر دراز نہان وجود اومی باشند۔ واز نشانہائے محمدی شان بلاغت ہم بودہ چنانچہ اعجاز قرآن کریم اشارہ بہ آن کردہ است۔پس