من عندہم أن ہذا الرجل لا یعلم صیغۃ من ہذہ اللسان، ولا یملک قراضۃ من ہذا العقیان۔ فسألت اللّٰہ أن یُکمّلنی فی ہذہ اللّہجۃ، ویجعلنی واحد الدّہر فی مناہج البلاغۃ۔ وألحت علیہ بالابتہال والضراعۃ، وکثر إطراحی بین
یدی حضرۃ العزّۃ، وتوالی سؤالی
بجہد العزیمۃ وصدق الہمۃ، وإخلاص المہجۃ۔ فأُجیب الدعاء وأُوتیت ما کنت أشاء*، وفُتحت لی
* قد جاء فی الاٰثار و تواتر فی الاخباران المسیح الموعود والمھدی المعھود قد رُکّبت نسمتہ من الحقیقۃ العیسویۃ والھویۃ المحمدیۃ۔ شطر
شہرت دے دی کہ یہ شخص عربی کا ایک صیغہ بھی نہیں جانتا اور اس سونے میں سے ایک ریزہ کا بھی مالک نہیں ۔ پس میں نے جناب الٰہی میں دعا کی کہ وہ مجھے اس زبا ن میں کامل کرے اور اس کی بلاغت فصاحت میں مجھے بے نظیر بنادے اور میں نے نہا یت عاجزی اور تضرع سے اس دعا میں الحا ح کیا اور جناب الٰہی میں گرا اور گڑگڑایا اور صدق ہمت اور اخلاص جان اور کوشش بلیغ کے ساتھ اس سوال کو با ر بار جناب الٰہی میں کیا ۔ پس دعا قبول کی گئی۔ اور جو میں نے چاہا تھا وہ مجھے دیا گیا۔* اور عربیت کے
* آثار اور اخبار میں تواتر سے یہ بات آچکی ہے کہ مسیح موعود اور مہدی معہود کا وجود حقیقت عیسویہ اور ماہیّت محمدیہ
سے مرکب ہے کوئی جز اس کا
کہ این کس از لسان عرب نابلد محض مے باشد و ازیں زر ریزۂ را ہم دردست ندارد۔ ناچار از جناب الٰہی درخواستم کہ مرا مہارتے در ایں لسان کرامت بفرماید۔ و در فصاحت و بلاغت مرا یگانۂ زمانہ بسازد۔ و در ایں دعا سوزو گداز و دردو نیاز رااز حد در گزر انیدم و بر خاک آستانہ اش برو فتادم۔و از صدق ہمت و عزم صمیم این مسئلت را پیاپے عرض کردم تا آنکہ دُعائے من بموقع قبول جا گرفت و آنچہ خواستم مرا دادند*۔ و دُر ہائے
* در آثار و اخبار تواتراً مذکور است کہ وجود مسیح موعود و مہدی معہود از حقیقت عیسویہ و ما ہیّتِ محمدیہ ترکیب و تخمیر یافتہ است۔