وأقضی بینہم بالحق والمعدلۃ۔ إن فی ہذا لآیۃ لقوم متفکّرین بل ہی من أعظم آی اللّٰہ عند حزب متدبّری ومن آیاتی أنہ تعالی وہب لی ملکۃ خارقۃ للعادۃ فی اللسان العربیۃ، لیکون آیۃ عند أہل الفکر والفطنۃ۔ والسبب فی ذالک أنّی کنتؔ لا أعلم العربیۃ إلَّا طفیفا لا تُسمّی العلمیۃ، فطفق العلماء یقعضون ویکسرون عود خبری ومخبرتی، ویتزرون علی علمی ومعرفتی، لیُبرّؤن العامۃ منی ومن سلسلتی۔ وشھروا مقدمات میری طرف رجوع کئے جائیں اور میں ان کا فیصلہ کروں ۔ اور اس میں فکر کرنے والوں کیلئے نشان ہے بلکہ تدبر کرنے والوں کے نزدیک یہ سب نشانوں سے بڑا نشان ہے۔ اور میرے نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے عربی زبان میں ایک ملکہ خارق عادت مجھے عطا فرمایا ہے تاکہ فکرؔ کرنے والوں کے لئے وہ نشان ہو اور اس کا سبب یہ ہے کہ میں بجز اندک اور حقیر شد بود کے جس کو علمیت نہیں کہہ سکتے عربی نہیں جانتا تھا ۔ پس علماء نے میرے علم کی لکڑی کوخم دینا اور توڑنا چاہا اور میرے علم کی عیب گیری اور نکتہ چینی شروع کی تاکہ عوام کو مجھ سے اور میرے سلسلہ سے بیزار کر دیں اور اپنی طرف سے یہ شاں در پیش من بشود و من قول فیصل دربارہ آناں امضابکنم۔ در ایں نشانے است جہت آنا نکہ اندیشہ کنند بلکہ نزد کسانے کہ فکر ے کنند نشانے بزرگتر ازین نیست۔ و از جملہ نشانہااین است کہ خدا وند کریم مر امہارتے فوق العادہ در زبان عربی کرامت فرمودہ تا اہل فکر و زیرکی را نشانے بزرگ باشد۔اصل راز آنکہ من از لسان عرب جزا ز مایۂ اند کے کہؔ براں لفظ علم راست نمی آید دردست ندا شتم۔ و علمائے ایں بلاد دردنبال آں بر آمد ند کہ چوب علم مرا بخمانند و بشکند و علم مرا عرضہ خرد ہ گیری ساختن گرفتند بقصد آنکہ درد لہائے عامہ مردم از من و از طریق من بیزاری پیدا کنند و بآواز دہل نعرہ ہا زدند