فما استطاعوا أن یأتوا بالمعاذیر المعقولۃ أو ینقضوا أحدًا من الأدلۃ۔ وکان وقتی ہذا وقت کانت العیون فیہا مُدّت إلی السماوات من شدّۃ الکربۃ، بما أضلّ الناس أھل الدّجل بکل ما أمکن لہم من الأطماع والاختضاع والخدیعۃ۔ ثم مع ذالک کثر التشاجر فی ہذا الزمان بین الأمّۃ، وما بقی عقیدۃ إلَّا وفیہ اختلاف ونزاع فی الفرق الإسلامیۃ، واقتضت الطبائع حَکَمًا لیحکم بالعدل والنصفۃ، فحکّمنی ربّی وأراد أن یرفع إلیَّ مشاجراتہم
پس وہ لوگ کوئی عذر معقول پیش نہیں کر سکتے اور نہ کسی دلیل کو توڑ سکتے ہیں اور میرا وقت ایک ایسا وقت تھا کہ نہایت بے قراری سے آنکھیں آسمان کی طرف لگی ہو ئی تھیں ۔ کیونکہ اہل دجل نے جہاں تک ان کے لئے ممکن تھا طمع اور دھوکہ دینے سے لو گوں کو گمراہ کیا ہے۔ پھرباوجود اس کے اس زمانہ میں مسلمانوں میں نہایت درجہ کا اختلاف واقع ہے اور کوئی ایسا عقیدہ باقی نہیں رہا جس میں مسلمانوں
کے فرقوں میں اختلاف اور نزاع نہ ہو اور لوگوں کی طبیعتوں نے ایک حَکم چاہا جو عدل اور انصاف سے فیصلہ کرے سوخدا تعالیٰ نے مجھے حَکم مقرر فرما دیا تاکہ ان کے اختلافات کے
را یکسر بر بستہ ام ودر قدرت انہا نماند ہ کہ عذرے معقول در پیش آرند یا حجتے را از حجت ہائے من بر شکنند۔ و این وقت وقتے بودہ کہ دیدہ ہا از بس بے تابی منتظرآن بودند۔۔۔ زیرا کہ اہل دجل و فریب ہر قدر ممکن بود از راہ فریب و آز فزائی مردم را از راہ بردند۔ علاوہ ازاں در ایں زمان خود درمیانۂ فرقہ ہائے اہل اسلام جنگ و جدل و داروگیر و پیکار از پایان در گزشتہ عقیدہ نماندہ کہ در نزد فرقہ از فرق اسلام اختلاف و نزاع دران نباشد۔ لا جرم طبیعت ہا بصد جان حَکَمے را آرزو کردند کہ بعدل و نصفت درمیانۂ ایں ہمہ اختلافات نور را از ظلمت ممتاز سازد لہٰذا خدا وند بزرگ مرا! حَکم مقرر فرمود تا مرافعہ ہمہ قضیہ ہائے اختلافات