فمنہا أن اللّٰہ تعالٰی بعثنی علی رأس الماءۃ، وأرسلنی عند غلبۃ أہل الصلبان وشیوع سمر الکفّارۃ، وأمرنی عندما استعرت جمرہم وعلا أمرہم، وتقضّت قسوسہم علی العامۃ، وفتحوا أبواب الارتداد علی وجوہ الفجرۃ، وحرکوا صفائحھا بأہویۃ الإباحۃ، وترائت فتن مُہلکۃ وظہر ہول القیامۃ، ووہب لی لکسر الصلیب معرفۃ لا یوجد نظیرہا
فی أحدٍ من اھل الملّۃ، وإن کتبی شہادۃ قاطعۃ علی ہذہ الخصوصیۃ،
وقد أفحمت بہا حُماۃ النصرانیۃ،
سو ان نشانوں میں سے ایک نشان یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرمایا ہے اور صلیبی مذہب کے غلبہ کے وقت مجھے بھیجا ہے اور مجھے اس وقت مامور کیا ہے جب کہ عیسائی مذہب کے حامیوں کے کوئلے بشدت بھڑک گئے اور ان کا کام او نچا ہو گیا اور ان کے پادری عامۃ الناس پر ٹوٹ پڑے اور بد فعل لوگوں پر مرتد ہو نے کے دروازے کھول دیئے اور ارتداد کے تختوں کو اباحت کی ہواؤں کے ساتھ ہلا دیا اور ہلاک کرنے والے فتنے ظاہر ہو گئے اور ہول قیامت برپا ہو ا ۔ اور خداتعالیٰ نے مجھے کسر صلیب کے لئے وہ
معرفت عطا فرمائی کہ اس کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں پائی نہیں جاتی اور میری کتابیں اس خصوصیت پر شہادت قا طعہ ہیں اور ان سے میں نے نصرانیت کے حامیوں کا منہ بند کر دیا ہے۔
ازا ن جملہ نشانے است کہ خدا وند بزرگ مرا بر سر صدبرپا فرمود۔ ودر وقت غلبۂ صلیب مرا فرستاد و مرا در چنیں وقتے مامور کرد کہ زغال حامیان صلیب نیک برا فروخت و کار شاں بلندی گرفت و کشیشان انہا بر حامیان دین تا ختند و برروئے فسق منشان در ہائے ارتداد باز کشو دند و رسن بے قیدی و اباحت را خیلے دراز نمودند و فتنہ ہائے بہر جا نمودار شد ند و ہنگامہ رستخیز پد ید ارشد۔ و خدا وند عالمیان جہت شکستن صلیب مرا معرفتے کرامت فرمودہ کہ نظیر ش در غیر من محال است۔ در مخصوص ایں باب کُتب من شہادت قا طعہ می باشند۔ بواسطۂ آں کتب زبان و دہان نصرانیان۔