وہوی فی وہدۃ الأخطاء ، فشق علیہ إلی آخر عمرہ أن یرجع إلی الصواب وینتہج مہجۃ أولی الألباب، أو یغنی عنہ الندم بعد ما زلّت القدم، فیا حسرۃ علیہم۔ إنہم لا یتقون اللّٰہ ویعلمون أنہم بمرآہ وتربۂم عیناہ، یرون آی اللّٰہ ثم لا ینظرون۔ ویُبلون کل عام مرۃ ثم لا یتوبون، وقد تمت حجّۃ اللّٰہ علیہم ثم لا یخافون۔ وإنّی أری أن أکتب فی رسالتی ہذہ بعض الأیات التی أظہرہا اللّٰہ لإزالۃ الشبہات، لعل اللّٰہ ینفع بہا بعض الصالحین والصالحات من المؤمنین۔ اور خطا کے گڑھے میں گر جا تا ہے تو یہ اس کوایک مشقت دکھائی دیتی ہے کہ پھر راہ راست کی طرف رجوع کرے اور عقل مندوں کی راہ اختیار کر لے یا اپنی لغزش پر کچھ ندامت پیدا ہو ۔ پس ان پر افسوس کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے اور جانتے ہیں کہ اس کی نظر کے نیچے ہیں اور خدا تعالیٰ کی آنکھ ان کی دید بانی کر رہی ہے خداتعالیٰ کے نشان دیکھ کر پھر ایسے ہوتے ہیں کہ گویا کچھ نہیں دیکھا اور ہر ایک برس آزمائے جاتے ہیں اور پھر توبہ نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہو گئی اور وہ نہیں ڈرتے اور میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اپنے اس رسالہ میں بعض وہ نشان لکھوں جن کو خدا تعالیٰ نے شبہات کے دور کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے تا شاید اس سے اہل ایمان نفع اٹھاویں۔ ہر گاہ از اناں یکے را خطائے سر بر زندود ر مغاک خطا بسردر افتدو باز برا و سخت دشوارمی گردد کہ میل براہ راست بیار د یا پئے خرد مندان رابگیرد یا اقلاًّبر لغزش خود کف پشیمانی بمالد۔ وائے بر انہا کہ باک از خدا ندارند و نیک مید انند کہ او می بیند و دیدہ اش دید بانی انہامی کند۔نشانہائے خدا را می بینند و باز چناں وا نمایند کہ چیزے ندیدہ اند۔ و ہر سال ابتلائے بر سر انہا دار دآید و باز نمی آیند۔ حجت خدا بر انہا تمام شد ولے نمی ترسند۔ ومن اکنون قرین مصلحت می بینم کہ دریں رسالہ بعض نشانہائے خود را ترقیم بکنم۔ شایدبعض طالبان حق را نفع بخشد۔