واہل القدّوس القدیر، وخالف عبدًا أُ یّد من الربّ النصیر، فمثلہ کمثل رجل ولج غابۃ لیصطاد قسورۃ، وما أعدّ لہ عدّۃ، وإنّ صید الأسود ولو بالجنود أمر عسیر، فکیف اصطیاد آساد اللّٰہ فإن لہم شأن کبیر، لایباریہم إلّا شقی أو ضریر۔ ولا یفتری علی اللّٰہ إلَّا أشقی الناس، ولا یُکذّب الصدّیق إلَّا أخ الخنّاس، وقد ظہرت منی الآیات، وقامت الشہادات، ولٰکنی أری أکثر علماء ہذہ الدیار قد کبر علیہم الإقرار
بعد الإنکار، وقد جرت سُنّتہم أن أحدا منہم إذا غلط فی الإفتاء
جو حق پر اور اہل اللہ ہیں اور اس بندہ کی مخالفت اختیار کرتا ہے جو خدا سے تائید یافتہ ہے ۔ پس اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص ایک بیشہ میں اس غرض سے داخل ہو کہ تا ایک شیر کو شکار کرے حالانکہ شکار کرنے کے لئے کوئی طیاری اس نے نہیں کی اور نہ کوئی ایسا سازو سامان اس کے پا س ہے اور شیروں کا شکار کرنا مشکل ہے اگرچہ لشکروں کے ساتھ ہو اور خدا کے شیر کیونکر شکار کئے جائیں ان کی تو بڑی شان ہے اور کوئی ان کے مقابل پر بجز بد بخت یا اندھے کے نہیں آتا اور خدا پر وہ افترا باندھتا ہے جو بدبخت ترین خلائق ہو اور را ستباز کی وہ تکذیب کرتا ہے جو شیطا ن کا بھائی ہو اور بہ تحقیق مجھ سے نشان ظاہر ہوئے ہیں اور گواہیاں قائم ہوئی ہیں مگر میں اس ملک کے اکثرمولویوں کو دیکھتا ہوں کہ انکار کے بعد اقرار کرنا ان پر بھاری ہو گیا ہے او ریہ ان کا طریق ہے کہ جب کوئی ان میں سے ایک مرتبہ غلطی کر بیٹھتا ہے
چہ آنکہ بااہل حق و مردان خدا پنجہ کند وبا یاوری یافتۂ پروردگار پیکار ورزد چوں شخصے می باشد کہ برائے نخچیر زدن شیر در بیشہ رود حال آنکہ ہیچ سازو برگے برائے مقابلہ شیراں مہیا نکرد ہ و نہ اسلحہ جنگ باخود داشتہ و ہر گا ہ کہ استعداد ے ہم جہت صید شیر مہیا نکردہ است ۔ پس چگو نہ جرأت میکند و صید شیران بیشہ با سپاہ و لشکر ہم کارے دشوار است۔ پس شیرانِ خدا را کہ شانے شگرف میدارند چگونہ افگندن شان آسان باشد۔ و ہیچ کس بجز سیاہ بختے نمی پسند د کہ بمقابل ایں چنیں شیران بایستد و دروغ بر خدا بستن را جز بد ترین مردم ہیچ کس روانمی دار د و غیر از برادر ا ہرمن تکذیب راستان نمی کند۔ ہر آئینہ از من نشانہا صادر شدہ و گوا ہیہا بروے کار آمدہ اما بسیارے از مولویان این بلاد اند کہ اقرار بعد از انکار بر انہا خیلے گران است۔ و شیوۂ شان آنکہ