عراہ من الشبہات، فہا أنا قائم لمواساتہ کالإخوان، وأُلَبِّی دعوتہ تلبیۃ خائف علی ضجیج العطشان، وسأروی غلتہ بزلال البرہان وأصفی البیان۔ وأمّا النصیحۃ التی ہی منّی بمقتضی المحبۃ وإخلاص الطویّۃ، فہی أن لا ینہض أحد علی خلافی إلَّا بصحۃ النیّۃ، والذی یُبارینی طالبًا للنصوص والحجج والأدلۃ، أو مُصِرًّا علی طلب الآی والخوارق السماویّۃ، فعلیہ أن یرفق عند المسألۃ، ویُراعی دقائقالتقویٰ والہون والتؤدۃ، ولا یخرج من الأدب وحسن المخاطبۃ۔ فإنہ من عارض أہل الحق دور کرے۔ سو میں اس کی غم خواری کے لئے بھائیوں کی طرح کھڑا ہوں ۔ اور میں اس کی دعوت کو اس طرح قبول کرتا ہو ں جیسا کہ ایک شخص پیاسے کی فریاد سے ڈر کر جلد تر اس کو جواب دیتا ہے اور میں عنقر یب دلیل کے آبِ زُلال سے اس کی پیاس کو بجھاؤ ں گا اور بیان کے مصفّا پانی کے ساتھ اس کو سیراب کروں گا ۔ مگر میری طرف سے اخلاص دل کے ساتھ یہ نصیحت ہے کہ کوئی شخص بجز صحت نیت کے اس کا م کے لئے کھڑا نہ ہو اور جو شخص میرے مقابلہ پر اس غر ض سے آوے کہ تا مجھ سے نصوص اور دلائل طلب کرے یا آسمانی نشانوں کا مطالبہ کرے ۔ پس اس پر لازم ہے کہ نرمی کے ساتھ سوال کرے اور تقویٰ اور آہستگی کے دقائق کی رعایت رکھے اور ادب اور حسن مخاطبت سے باہر نہ جائے کیونکہ وہ شخص جو ان لوگوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ اینک جہت غمگساریش چوں برادران ایستادہ ام۔ و بانگ ویرا چوں شخصے بگوش قبول می شنوم کہ تشنہ جان بلب رادیدہ و فر یادش شنیدہ بتما متر زودی جا نبش می رود ہمچنیں من نیز ہم تشنہ طلب حق را زلا ل راستی میدہم و با آ ب صافی بیان سیرابش می کنم و لیکن از روئے اخلاص نصیحت می کنم کہ ہیچ نفس را نمی باید کہ بغیر درستی نیت اقدام این امر بنماید و برابر من بایستدتا دربارہ نصوص و دلائل مسئلت بکند یا نشان آسمانی را باز بہ بیند بلکہ لازم کہ بر فق و لطف و صحت نیت بپر سد و آداب تقویٰ و تانی را نگہدارد و از حد ادب و گفتار نیکو بیروں نرود۔