وذعر الناس نسلہم والرملان، وقذفوا خیر الرسل ورفع الأمان۔ فمن کان بعد ذالک لا یری ضرورۃ عبدٍ یکسر الصلیب، ویُری الآیات ویؤیّد الدین الغریب، وکان یحار فی أمری فہمہ، ویفرط وہمہ، حتی لا یُدرک ہذا السر غور عقلہ، ولا یحب بہذا الثمر لعاع حقلہ، بل یرتاب بعزوتی، ویأبی تصدیق دعوتی، ویضطر إلی طلب الآیات أو النصوص واؔ لبیّنات، لإزالۃ ما
وادعوا لاعدائکم واسترشدوا۔ واذکروا طول الدولۃ البرطانیۃ واشکروا و لا تکفروا۔ وارحموا ترحموا۔ منہ
اور مدبّرانہ روش نے لوگوں کو ڈرا دیااور رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کو انہوں نے گالیاں دیں اور امان اٹھ گئی ۔ پھر اس کے بعد جو شخص ایسے بندے کی ضرورت نہ دیکھے جو کسر صلیب کرے اور نشان دکھلاوے اور دین غریب کی تائید کرے اور میرے مقابلہ میں اس کا فہم حیرت میں ہو اور اس کا وہم بڑھ جائے یہا ں تک کہ اس بھید کو اس کی عقل شناخت نہ کر سکے اور اس کے سبز کھیت میں یہ دانہ پیدا نہ ہو سکے بلکہ میری نسبت اس لقب کو خیال کر کے شک میں پڑے اور میرے دعوے کی تصد یق سے انکاؔ رکرے اور نشانوں کی طلب کے لئے یا نصوص اور حجج بیّنہ کے پانی کا محتاج ہوتا اپنے شبہات
اور ان کے لئے دعا کرو ۔ اور سلطنت برطانیہ کا احسان یاد کرو اور رحم کرو تا تم پر رحم کیاجائے ۔ منہ
کہ مردم از حیلہ ہاو ر فتار پر فریب انہادر ہراس اند رسول کریم را ( صلی اللہ علیہ وسلم) ناگفتنیہا گفتند و امان بر خاست۔ بااین ہمہ اگر کسے ہنوز ضرورت ہمچو شخصے را نہ بیند کہ صلیب را بشکند و نشان نماید و تائیدِ دین غریب بکند ودر امر من سراسیمہ و حیران باشدو خردش از دریافت این راز فروماند۔ و کشت عقل وے این دانہ ندہد۔ و بر نسبت من انگشت شک گزار د و بر تصدیق و دعویم انکار دارد۔ و برائے رفع شک و شبہت روی بہ نشان و نصوصؔ آرد۔
بقیہ حاشیہ و برائے دشمنان دست دعا بر فرازیدو برائے آنہارشد بخواہید و احسان ہائے سلطنۂ برطانیہ
یا د کنید۔ ناسپاسی نکنید و رحم کنید تا بر شما رحم کردہ شود۔ منہ