اور پیاسا پڑا تھا تو اس فعل کا نام ایثار نہ ہوتا۔ کیونکہ وہ اس حالت میں یقیناً جان سکتا تھا کہ میں بھی اس سے محروم نہیں رہ سکتا۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ صفت ایثار کے ثابت ہونے کیلئے شخص ایثار کنندہ کا ضعف اور درماندگی اور عدم قدرت اور عدم استطاعت شرط ہے۔ لہٰذا یہ صفت خدائے قادر مطلق کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔ اور ایسا ہی سرفلپ سڈنی کی طرف بھی منسوب نہ ہوتی اگر وہ پانی پیدا کرنے پر قادر ہوتا۔اور اگر خدا ایسا کرے کہ عمدًا اس قدرت کے استعمال سے اپنے تئیں محروم رکھے یا عمدًا دوسرے کو آرام دے کر ایک مصیبت کی حالت اپنے پر ڈال لے تو اس فعل کا نام بھی ایثار نہیں ہے بلکہ یہ فعل اس بیوقوف کے فعل سے مشابہ ہوگا کہ جس کا گھر طرح طرح کے کھانوں سے بھرا ہے اور اس نے اس میں سے کسی فقیر کو ایک طبق طعام دےؔ کر باقی عمدًا تمام کھانا کسی گڑھے میں پھینک دیا اور اپنے تئیں مارے بھوک کے ہلاکت تک پہنچا دیا تا اس طرح صفت ایثار ثابت ہو۔ غرض یہ تمام غلطیاں ہیں جن میں عمدًا عیسائی لوگ اپنے تئیں ڈال رہے ہیں تا گلے پڑے ڈھول کو کسی طرح بجاتے رہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ انسان کی صفت ایثار اس شرط سے قابل تحسین ہے کہ اس میں کوئی بے غیرتی اور دیّوثی اور اتلاف حقوق نہ ہو۔ مثلاً اگر کوئی مرد اپنی عورت کو اس کے خواہشمند کے ساتھ بطور ایثار ہم بستر کراوے تو یہ صفت قابل تحسین نہیں ہوگی۔ بہتیرے احمق نادان ایسی حرکات کر بیٹھتے ہیں جن کی نظیر خداتعالیٰ کے تمام قانون قدرت میں نہیں پائی جاتی۔ سو وہ عقلمندوں کے نزدیک مورد ملامت ہوتے ہیں نہ یہ کہ ان کی پیروی کی جائے۔ اور یا یہ کہ ان کا فعل قابل تعریف سمجھا جائے۔ مثلاً ایک انگریزی افسر جو ایک نازک مہم پر کئی لاکھ فوج کے ساتھ مامور کیا گیا ہے اگر وہ ایک بکری کے بچے کی جان بچانے کے لئے عمداً اپنی جان دے اور اس طرح پر تمام فوج کو تہلکہ اور شکست کے اندیشہ میں ڈالے تو کیا ہماری گورنمنٹ اس کو ایک قابل تعریف انسان تصور کر سکتی ہے؟ نہیں بلکہ ایسا نادان *** ملامت کے لائق ہوگا۔ سو انسان کا وجود خدا کے وجود کے مقابل بکری سے بھی ہزارہا درجہ کمتر ہے نادانوں کی بعض بے ہودہ حرکات قانون قدرت کا حکم نہیں