ہے اور نہ اس کی جناب میں یہ تجویز کر سکتے ہیں کہ وہ دوسروں کو کسی قسم کا آرام پہنچانے کے لئے اس بات کا محتاج ہے کہ اپنے تئیں مصیبت میں ڈالے کیونکہ یہ بات قدرت تامہ اور نشان الوہیت اور جلال ازلی ابدی کے منافی ہے۔ اور اگر وہ اس قسم کی ذلت اور مصیبت اور محرومی اپنے لئے روا رکھ سکتا ہے تو پھر یہ بھی ممکن ہوگا کہ وہ اپنی خدائی کسی دوسرے کو بطور ایثار دے کر آپ معطل اور بے کار بیٹھ جائے یا اپنیؔ صفات کاملہ دوسرے کو عطا کر کے آپ ان صفات سے ہمیشہ کے لئے محروم رہے۔ سو ایسا خیال خداتعالیٰ کی جناب میں بڑی گستاخی ہے اور میں قبول نہیں کر سکتا کہ کوئی خدا ترس منصف مزاج یہ ناقص حالتیں خدائے ذوالجلال کے لئے پسند کرے گا۔ ہاں بلاشبہ یہ صفت ایثار *جس میں ناداری اور لاچاری اور ضعف اور محرومی شرط ہے ایک عاجز انسان کی نیک صفت ہے کہ باوجودیکہ دوسرے کو آرام پہنچا کر اپنے آرام کا سامان اس کے پاس باقی نہیں رہتا پھر بھی وہ اپنے پر سختی کر کے دوسرے کو آرام پہنچا دیتا ہے مگر ہم کیونکر تجویز کر سکتے ہیں کہ خدا پر بھی ایسی حالت رہ سکتی ہے کہ وہ ایک قسم کا کسی کو آرام پہنچا کر آپ اس آرام سے محروم رہ جائے۔ کیا اس کی شان کے یہ زیبا ہے کہ ایک شخص کو بطور ایثار کے قادر بناوے اور آپ ناتواں رہ جائے یا آپ نعوذ باللہ جاہل رہ جائے اور دوسرے کو بطور ایثار کے عالم الغیب بناوے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ایثار کی صفت میں یہ ضروری شرط ہے کہ ایثار کنندہ اپنے لئے ایک محرومی کی حالت پر راضی ہو کر دوسرے کو اپنے اس نصیب سے بہرہ یاب کرے اور اگر اپنے لئے محرومی کی حالت پیدا نہ ہو اور دوسرے کو ہم فائدہ پہنچاویں تو یہ ایثار نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ہمارے قبضہ میں بہت سی روٹیاں ہیں جن کے ہم مالک ہیں اور ہم نے ان ہزاروں روٹیوں میں سے ایک روٹی کسی فقیر کو دے دی تو اس کا نام ایثار نہیں ہوگا۔ فرض کرو کہ اگر سرفلپ سڈنی کے پاس بہت سا پانی ہوتا یا بآسانی اس کو پیدا کر سکتا اور وہ اس میں سے ایک پیالہ اس سپاہی کو بھی دے دیتا جو اس کے پاس زخمی
نوٹ* اس کو انگریزی میں ’’ سیلف سکری فائس‘‘ کہتے ہیں۔ منہ