رکھتیں ورنہ بہتیرے ہندو بتوں کے آگے اپنی زبان یا ہاتھ یا پیر کاٹ دیتے ہیں اور بہتیرے نادان ہندو اپنے بچے کو گنگا میں ڈال کر اس کا نام جل پر وا رکھتے ہیں۔ اور ان میں سے بہتیرے ایسے گذرے ہیں کہ ارادتاً جگن ناتھ کے پہیے کے نیچے کچلے گئے ہیں۔ سو ایسی بیہودہ حرکات نظیر دینے کے لائق نہیں اور نہ وہ خداتعالیٰ کا قانون قدرت کہلا سکتی ہیں۔ ہمارا تو یہ اعتراض تھا کہ اعلیٰ کا ادنیٰ کے لئے اپنی جان ضائع کرنا قانون قدرت کے مخالف ہے۔ پس کاش اگر یہ لوگ پہلے قانون قدرت کی تعریف میں غور کرتے تو اس فاش غلطی میں نہ پڑتے۔ کیا ہم بعض نادانوں کی بے ہودہ حرکات کو جن پر خود قانون قدرت کا اعتراض ہے قانون قدرت کا حکم دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اور پھر لطف یہ کہ اس بحث میں پڑنے کا ابھی تک عیسائیوں کا حق بھی نہیں۔ کیونکہ وہ اؔ س بات کے قائل نہیں کہ درحقیقت اقنوم ثانی کو جس کا دوسرا نام ان کے نزدیک ابن اللہ ہے پھانسی دی گئی تھی وجہ یہ کہ اس سے ان کو ماننا پڑتا ہے کہ ان کا خدا تین دن تک مرا رہا پس جبکہ خدا ہی مرا رہا تو اس عرصہ تک اس دنیا کا انتظام کون کرتا ہوگا؟ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ باتیں حضرت مسیح کی تعلیم میں نہیں تھیں اور ان کی تعلیم میں توریت پر کوئی بھی زیادت نہیں تھی۔ انہوں نے صاف صاف کہا تھا کہ میں انسان ہوں۔ ہاں جیسا کہ خدا کے مقبولوں کو عزت اور قربت اور محبت کے خداتعالیٰ کی طرف سے القاب ملتے ہیں اور یا جیسا کہ وہ لوگ خود عشق الٰہی کی محویت میں محبت اور یکدلی کے الفاظ منہ پر لاتے ہیں ایسا ہی ان کا بھی حال تھا۔ اس میں کیا شک ہے کہ جب کوئی انسان سے محبت کرے یا خدا سے تو جب وہ محبت کمال کو پہنچتی ہے تو محب کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی روح اور اس کے محبوب کی روح ایک ہو گئی ہے اور فنا نظری کے مقام میں بسا اوقات وہ اپنے تئیں محبوب سے ایک ہی دیکھتا ہے۔ جیسا کہ اس عاجز کو اپنے الہامات میں خداتعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے* کہ ’’ تو مجھ سے اور مَیں *نوٹ۔ یہ الہامات میری کتاب براہین احمدیہ اور آئینہ کمالات اسلام اور ازالہ اوہام اور تحفہ بغداد وغیرہ میں شائع ہو چکے ہیں اور قریباً پچیس سال سے ان کو شائع کر رہا ہوں۔ منہ