میں دو نہریں اب تک موجود ہیں ایک دلائل عقلیہ کی نہر دوسری آسمانی نشانوں کی نہر۔ لیکن عیسائیوں کی انجیل دونوں سے بے نصیب اور خشک رہی ہے۔
کے پرستد بندہ راجز آنکہ نادانے بود
پس بگرید بر رہ شاں ہر کہ گریانے بود
آں خداوندے کہ نامش ہست بر ہر برگ ثبت
ہر کہ جوید آں خدا را او مسلمانے بود
میں نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ پادری صاحبان کا ایک بڑا محقق شملر نام کہتا ہے کہ یوحنا کی انجیل کے سوا باقی تینوں انجیلیں جعلی ہیں۔ اور مشہور فاضل ڈاڈویل اپنی تحقیقات کے بعد لکھتا ہے کہ دوسری صدی کے وسط تک ان موجودہ چار انجیلوں کا کوئی نشان دنیا میں نہ تھا۔ سیمرل کہتا ہے کہ موجودہ عہد نامہ یعنی انجیلیں نیک نیتی کے بہانہ سے مکّاری کے ساتھ دوسری صدی کے آخر میں لکھی گئیں۔ اور ایک پادری ایولسن نام انگلستان کا رہنے والا کہتا ہے کہ متی کی یونانی انجیل دوسری صدی مسیحی میں ایک ایسے آدمی نے لکھی تھی جو یہودی نہ تھا۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس میں بہت سی غلطیاں اس ملک کے جغرافیہ کی بابت اور یہودیوں کی رسومات کی بابت ہیں۔ عیسائیوں کے محقق اس بات کے بھی مقرّ ہیں کہ ایک عیسائی اپنے مذہب کے رو سے انسانی سوسائٹی میں نہیں رہ سکتا اور نہ تجارت کر سکتا ہے کیونکہ انجیل میں امیر بننے اور کَل کی فکر کرنے سے منع کیا گیا ہے ایسا ہی کوئی سچا عیسائی فوج میں بھی داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ دشمن کے ساتھ محبت کرنے کا حکم ہے۔ ایسا ہی اگر کامل عیسائی ہے تو اس کو شادی کرنا بھی منع ہے۔ ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل ایک مختص الزمان اور مختص القوم قانون کی طرح تھی جس کو حضرات عیسائیوںؔ نے عام ٹھہرا کر صدہا اعتراض اس پر وارد کرالئے۔ بہتر ہوتا کہ وہ کبھی اس بات کا نام نہ لیتے کہ انجیل کی تعلیم میں کسی قسم کا کمال ہے۔ ان کے اس بے جا دعوے سے بہت سی خفت اور سُبکی ان کو اٹھانی پڑی ہے۔
ایک اور بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ عیسائی لوگ لفظ الوہیم سے جو اِلٰہکی جمع ہے اور کتاب پیدائش تورات میں موجود ہے یہ نکالنا چاہتے ہیں کہ گویا یہ تثلیث کی طرف