اشارہ ہے۔ مگر اس سے اور بھی ان کی نادانی ثابت ہوتی ہے کیونکہ عبرانی لغت سے ثابت ہے کہ گو الوہیم کا لفظ بظاہر جمع ہے مگر ہر ایک جگہ واحد کے معنے دیتا ہے۔ بات یہ ہے کہ زبان عربی اور عبرانی میں یہ محاورہ شائع ہے کہ بعض وقت لفظ واحد ہوتا ہے اور معنے جمع کے دیتا ہے جیسا کہ سامر اور دجّال کا لفظ اور بعض وقت ایک لفظ جمع کے صیغہ پر ہوتا ہے اور معنے واحد کے دیتا ہے اور عبرانی جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ لفظ الوہیم بھی ان ہی الفاظ میں سے ہے جو جمع کی صورت میں ہیں اور دراصل واحد کے معنے رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ لفظ توریت میں جس جگہ آیا ہے ان ہی معنوں کے لحاظ سے آیا ہے۔ اور یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ وہ ہمیشہ خداتعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ بلکہ بعض جگہ یہی لفظ فرشتہ کے لئے اور بعض جگہ قاضی کے لئے اور بعض جگہ حضرت موسیٰ کے لئے آیا ہے۔ جیسا کہ قاضیوں کی کتاب باب ۱۳۲۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مَنَوحا سُمُون کے باپ نے خداوند کا ایک فرشتہ دیکھا تو اس نے کہا کہ ہم یقیناً مر جائیں گے کیونکہ ہم نے الوہیم کو دیکھا۔ اس جگہ عبرانی میں لفظ الوہیم ہے اور معنے اس کے فرشتہ کئے جاتے ہیں اور خروج باب ۹ ۱۲میں الوہیم کے معنے قاضی کئے گئے ہیں۔ اور خروج باب ۷۱۰ میں موسیٰ کو الوہیم قرار دے کر کہا ہے کہ ’’دیکھ میں نے تجھے فرعون کے لئے ایک الوہیم بنایا ہے‘‘۔ اور استثنا باب ۳۲۱۵ میں یہ عبارت ہے۔ ’’اور اس نے الوہا کو چھوڑ دیا جس نے اسے پیدا کیا تھا‘‘۔ دیکھو اس جگہ لفظ الوہا ہے الوہیم نہیں ہے۔ اور ایسا ہی زبور ۵۰۲۲ میں لفظ الوہا آیا ہے۔ اور اسی طرح ان کتابوں میں لفظ الوہا اور الوہیم ایک دوسرے کی جگہ آگیا ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ دونوں جگہ میں واحد مراد ہے نہ جمع۔ ایسا ہی یسعیا باب ۴۴۶ میں الوہیم آیا ہے۔ اور پھر آیت آٹھ میں الوہا ہے۔ پسؔ واضح ہو کہ اصل مدعا جمع کا صیغہ لانے سے خدا کی طاقت اور قدرت کو ظاہر کرنا ہے اور یہ زبانوں کے محاورات ہیں جیسا کہ انگریزی میں ایک انسان کو یُو یعنی تم کے ساتھ مخاطب کرتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ کے لئے باوجود تثلیث کے عقیدہ کے ہمیشہ داؤ یعنی تُو کا لفظ لاتے ہیں۔