اور ابوالحسن خرقانی۔ اور ابویزید بسطامی اور جنید بغدادی اور محی الدین ابن العربی۔ اور ذوالنون مصری اور معین الدین چشتی اجمیری اور قطب الدین بختیار کاکی۔ اور فرید الدین پاک پٹنی۔ اور نظام الدین دہلوی۔ اور شاہ ولی اللہ دہلوی۔ اور شیخ احمد سرہندی رضی اللّٰہ عنہم و رضوا عنہ اسلام میں گذرے ہیں۔ اور ان لوگوں کا ہزار ہا تک عدد پہنچا ہے۔ اور اس قدر ان لوگوں کے خوارق علماء و فضلاء کی کتابوں میں منقول ہیں کہ ایک متعصب کو باوجود سخت تعصب کے آخر ماننا پڑتا ہے کہ یہ لوگ صاحب خوارق و کرامات تھے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے نہایت صحیح تحقیقات سے دریافت کیا ہے کہ جہاں تک بنی آدم کے سلسلہ کا پتہ لگتا ہے سب پر غور کرنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جس قدر اسلام میں اسلام کی تائید میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی گواہی میں آسمانی نشان بذریعہ اس امت کے اولیاء کے ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں ان کی نظیر دوسرے مذاہب میں ہرگز نہیں۔ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی ترقی آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ہمیشہ ہوتی رہی ہے اور اس کے بے شمار انوار اور برکات نے خداتعالیٰ کو قریب کر کے دکھلادیا ہے۔ یقیناً سمجھو کہ اسلام اپنے آسمانی نشانوں کی وجہ سے کسی زمانہ کے آگے شرمندہ نہیں۔ اسی اپنے زمانہ کو دیکھو جس میں اگر تم چاہو تو اسلام کیلئے رؤیت کی گواہی دے سکتے ہو۔ تم سچ سچ کہو کہ کیا اس زمانہ میں تم نے اسلام کے نشان نہیں دیکھے؟ پھر بتلاؤ کہ دنیا میں اور کونسا مذہب ہے کہ یہ گواہیاں نقد موجود رکھتا ہے؟ یہی ؔ باتیں تو ہیں جن سے پادری صاحبوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ جس شخص کو وہ خدا بناتے ہیں اس کی تائید میں بجز چند بے سروپا قصوں اور جھوٹی روایتوں کے ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ اور جس پاک نبی کی وہ تکذیب کرتے ہیں اس کی سچائی کے نشان اس زمانہ میں بھی بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ ڈھونڈنے والوں کے لئے اب بھی نشانوں کے دروازے کھلے ہیں جیسا کہ پہلے کھلے تھے۔ اور سچائی کے بھوکوں کے لئے اب بھی خوان نعمت موجود ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ زندہ مذہب وہی ہوتا ہے جس پر ہمیشہ کے لئے زندہ خدا کا ہاتھ ہو سو وہ اسلام ہے۔ قرآن