کیا ثبوت ہو سکتا ہے کیونکہ ایسی باتوں کے ثبوت کے لئے جو کہ ہمارے زمانہ سے پہلے یا ہماری نظروں سے دور واقع ہوئی ہیں صرف سندیں ذریعہ ہیں۔ اور اگر ان سندوں کا انکار کیا جائے تو تمام تاریخی حالات قابل شک ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایک اور دلیل اس بات پر کہ یہ معجزات واقعی طور پر سچے تھے یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر نبی اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نہایت سخت *** کی ہے کہ جو جھوٹے طور پر آپ کی طرف معجزات منسوب کریں بلکہ صاف طور پر کہا ہے کہ جو میرے پر جھوٹ بولے اس کی سزا جہنم ہے۔ پس یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ ایسی سخت ممانعت کے بعد اس قدر جھوٹے معجزات بنائے جاتے‘‘۔ پھر وہی مؤلّف لکھتا ہے کہ ’’سچ تو یہ ہے کہ جس قدر معزز گواہیاں اور سندیں نبی اسلام کے لئے پیش کی جا سکتی ہیں ایک عیسائی کی قدرت نہیں کہ ایسی گواہیاں یسوع کے معجزات کے ثبوت میں عہد جدید سے پیش کر سکے۔ اور اس سے زیادہ یا اس سے بہتر سندیں لاسکے‘‘۔ غرض فاضل عیسائی نے کسی قدر انصاف سے کام لے کر یہ تحریر کیا ہے مگر پھر بھی اسلام کے فضائل اور اُس کی سچائی کے ثبوت بیان کرنے کے لئے اسی قدر نہیں ہے جو بیان کیا گیا کیونکہ قرآن شریف نے باوجود اس کے کہ اس کے عقائد کو دل مانتے ہیں اور ہر ایک پاک کانشنس قبول کرتا ہے پھر بھی ایسے معجزات پیش نہیں کئے کہ کسی آئندہ صدی کےؔ لئے قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہو جائیں بلکہ ان عقائد پر بہت سے عقلی دلائل بھی قائم کئے اور قرآن میں وہ انواع و اقسام کی خوبیاں جمع کیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر معجزہ کی حد تک پہنچ گیا۔ اور ہمیشہ کے لئے بشارت دی کہ اس دین کی کامل طور پر پیروی کرنے والے ہمیشہ آسمانی نشان پاتے رہیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور ہم یقینی اور قطعی طور پر ہر ایک طالب حق کو ثبوت دے سکتے ہیں کہ ہمارے سیّد و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک ہر ایک صدی میں ایسے باخدا لوگ ہوتے رہے ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ غیر قوموں کو آسمانی نشان دکھلا کر ان کو ہدایت دیتا رہا ہے۔ جیسا کہ سیّد عبدالقادر جیلانی