اُس فرشتہ سے خوب اطلاع رکھتے تھے کیوں اُس پر ایمان نہ لائے۔ اور یہ انکار اس حد تک کیوں پہنچ گیا کہ یسوع نے خود اپنے بھائیوں کے بھائی ہونے سے انکار کیا۔ اور ماں سے بھی انکار کیا۔ میں نے یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ یوحنا باب ۲ آیت ۲۰ میں ہے کہ یہودیوں کو مسیح نے کہا تھا کہ ہیکل چھیالیس برس میں بنائی گئی ہے۔ مگر یہودیوں کی کتابوں میں بتواتر یہ درج ہے کہ صرف آٹھ۸ برس تک ہیکل طیّار ہوگئی تھی۔ چنانچہ اب تک وہ کتابیں موجود ہیں۔ پس یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ یہودیوں نے مسیح کو ایسا کہا تھا۔ اور خود یہ بات قرین قیاس بھی نہیں کہ ایسی مختصر عمارت جس کے بنانے کے لئے نہایت سے نہایت چند سال کافی تھے وہ چھیالیس برس تک بنتی رہی ہو۔ سو ایسے ایسے جھوٹ انجیلوں میں ہیں جن کی وجہ سے ان کے مضامین قابل تمسک نہیں۔ مثلاً دیکھو کہ انجیل یوحنا باب ۱۴، آیت ۳۴ میں لکھا ہے کہ میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ تم ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ حالانکہ یہ نیا حکم نہیں۔ کیونکہ احبار کی کتاب باب ۱۹ آیت ۱۸ میں یہی حکم لکھا ہے پھر وہ نیا کیونکر ہوگیا۔ تعجب کہ یہی انجیلیں ہیں جن کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ وہ پایۂ اعتبار کے روؔ سے احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جن کتابوں میں ایسے قابل شرم جھوٹ ہیں ان کو اسلام کی کتب احادیث سے کیا نسبت ہے۔ ریلینڈ صاحب اپنی کتاب اکاؤنٹ آف محمدنزم میں لکھتے ہیں کہ ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے معجزات نہایت مشہور عالم پرہیزگار اور دانا محمدی فاضلوں نے اپنی بیشمار کتابوں میں درج کئے ہیں اور یہ فاضل ایسے تھے کہ کسی بات کو بغیر سخت امتحان اور بے انتہا جانچ پڑتال کے نہیں لیتے تھے اسی لئے ان کی روایات اس قابل نہیں کہ ان میں شک کیا جائے۔ تمام ملک عرب میں وہ مشہور ہیں۔ اور وہ واقعات عام طور پر باپ سے بیٹے کو اور ایک پُشت سے دوسری پُشت کو پہنچے ہیں۔ اسلام کی ہر ایک قسم کی کتابیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے معجزات پر گواہی دیتی ہیں۔ پھر اگر اتنے بڑے اور دانا فاضلوں کی سند کو تسلیم نہ کیا جائے تو پھر معجزات کے واسطے اور