خون حیض کھاوے اور آخر چیختا ہوا عورتوں کی شرم گاہ سے پیدا ہو؟ کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ خدا بے شمار اور بے ابتدا زمانہ کے بعد مجسّم ہو جائے اور ایک ٹکڑہ اس کا انسان کی صورت بنے اور دوسرا کبوتر کی اور یہ جسم ہمیشہ کے لئے ان کے گلے کا ہار ہو جائے۔ ایک اور اعتراض تھا جو ہم نے عیسائیوں کی موجودہ انجیلوں پر کیا تھا۔ جس کی وجہ سے پادری صاحبوں کو بہت شرمندگی اٹھانی پڑی اور وہ یہ ہے کہ انجیل انسان کی تمام قوتوں کی مربی نہیں ہو سکتی اور جو کچھ اس میں کسی قدر اخلاقی حصہ موجود ہے وہ بھی دراصل توریت کا انتخاب ہے۔ اس پر بعض عیسائیوں نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ ’’خدا کی کتاب کے مناسب حال صرفؔ اخلاقی حصہ ہوتا ہے اور سزا جزا کے قوانین خدا کی کتاب کے مناسب حال نہیں کیونکہ جرائم کی سزائیں حالات متبدّلہ کی مصلحت کے رو سے ہونی چاہئیں اور وہ حالات غیر محدود ہیں اس لئے ان کے لئے صرف ایک* ہی قانون سزا ہونا ٹھیک نہیں ہے ہر ایک سزا جیسا کہ وقت تقاضا کرے اور مجرموں کی تنبیہ اور سرزنش کے لئے مفید پڑ سکے دینی چاہیے۔ لہٰذا ہمیشہ ایک ہی رنگ میں ان کا ہونا اصلاح خلائق کے لئے مفید نہیں ہوگا اور اس طرح پر قوانین دیوانی اور فوجداری اور مال گذاری کو محدود کر دینا اُس بد نتیجہ کا موجب ہوگا کہ جو ایسی نئی صورتوں کے وقت میں پیدا ہو سکتا ہے جو ان قوانین محدودہ سے باہر ہوں۔ مثلاً ایک ایسی جدید طرز کے امور تجارت پر مخالفانہ اثر کرے جو ایسے عام رواج پر مبنی ہوں جن سے اس گورنمنٹ میں کسی طرح گریز نہ ہو سکے۔ اور یا کسی اور طرز کے جدید معاملات پر مؤثر ہو اور یا کسی اور تمدّنی حالت پر اثر رکھتا ہو۔ اور یا بدمعاشوں کے ایسے حالات راسخہ پر غیر مفید ثابت ہو جو ایک قسم کی سزا کی عادت پکڑ گئے ہوں یا اس سزا کے لائق نہ رہے ہوں‘‘۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ خیالات ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے کبھی تدبّر سے خدا کی کلام قرآن شریف کو نہیں پڑھا۔ اب میں حق کے طالبوں کو سمجھاتا ہوں کہ قرآن شریف میں ایسے احکام جو دیوانی اور فوجداری اور مال کے متعلق ہیں دو قسم نوٹ* اس قسم کا اعتراض مارک بے اور دوسرے انگریزی مقنّنوں نے قرآن کریم پر کیا ہے۔