کے ہیں۔ ایک وہ جن میں سزا یا طریق انصاف کی تفصیل ہے۔ دوسرے وہ جن میں ان امور کو صرف قواعد کلیہ کے طور پر لکھا ہے اور کسی خاص طریق کی تعیین نہیں کی۔ اور وہ احکام اس غرض سے ہیں کہ تا اگر کوئی نئی صورت پیدا ہو تو مجتہد کو کام آویں۔ مثلاً قرآن شریف میں ایک جگہ تو یہ ہے کہ دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ تو تفصیل ہے۔ اور دوسری جگہ یہ اجمالی عبارت ہے کہ 3۔۱؂ پس جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ یہ اجمالی عبارت توسیع قانون کے لئے بیان فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ بعض صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں یہ قانون جاری نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک ایسا شخص کسی کا دانت توڑے کہ اس کے منہ میں دانت نہیں اور بباعث کبر سنی یا کسی اور سبب سے اس کے دانت نکل گئے ہیں تو دندان شکنی کی سزا میں ہم اس کا دانت توڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ ؔ اس کے تو مُنہ میں دانت ہی نہیں۔ ایسا ہی اگر ایک اندھا کسی کی آنکھ پھوڑ دے تو ہم اس کی آنکھ نہیں پھوڑ سکتے کیونکہ اس کی تو آنکھیں ہی نہیں۔ خلاصہ مطلب یہ کہ قرآن شریف نے ایسی صورتوں کو احکام میں داخل کرنے کے لئے اس قسم کے قواعد کلیہ بیان فرمائے ہیں پس اس کے احکام اور قوانین پر کیونکر اعتراض ہو سکے۔ اور اس نے صرف یہی نہیں کہا بلکہ ایسے قواعد کلیہ بیان فرما کر ہر ایک کو اجتہاد اور استخراج اور استنباط کی ترغیب دی ہے۔ مگر افسوس کہ یہ ترغیب اور طرز تعلیم توریت میں نہیں پائی جاتی اور انجیل تو اس کامل تعلیم سے بالکل محروم ہے اور انجیل میں صرف چند اخلاق بیان کئے ہیں اور وہ بھی کسی ضابطہ اور قانون کے سلسلہ میں منسلک نہیں ہیں۔ اور یاد رہے کہ عیسائیوں کا یہ بیان کہ انجیل نے قوانین کی باتوں کو انسانوں کی سمجھ پر چھوڑ دیا ہے جائے فخر نہیں بلکہ جائے انفعال اور ندامت ہے۔ کیونکہ ہر ایک امر جو قانون کلی اور قواعد مرتبہ منتظمہ کے رنگ میں بیان نہ کیا جائے وہ امر گو کیسا ہی اپنے مفہوم کے رو سے نیک ہو بد استعمالی کے رو سے نہایت بد اور مکروہ ہو جاتا ہے۔ اور ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ