وہ عمیق الفکر ہو اور سطحی خیال کا آدمی نہ ہو اور چوتھے یہ کہ وہ محقق ہو اور سطحی باتوں پر کفایت کرنے والا نہ ہو اور پانچویں یہ کہ جو کچھ لکھے چشم دید لکھے محض رطب یابس کو پیش کرنے والا نہ ہو۔ مگر انجیل نویسوں میں ان شرطوں میں سے کوئی شرط موجود نہ تھی۔ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ انہوں نے اپنی انجیلوں میں عمداً جھوٹ بولا ہے۔ چنانچہ ناصرہ کے معنے الٹے کئے اور عمانوایل کی پیشگوئی کو خواہ نخواہ مسیح پر جمایا اور انجیل میں لکھا کہ اگر یسوع کے تمام کام لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سما نہ سکتیں‘‘۔ اور حافظہ کا یہ حال ہے کہ پہلی کتابوں کے بعض حوالوں میں غلطیؔ کھائی اور بہت سی بے اصل باتوں کو لکھ کر ثابت کیا کہ ان کو عقل اور فکر اور تحقیق سے کام لینے کی عادت نہ تھی بلکہ بعض جگہ ان انجیلوں میں نہایت قابل شرم جھوٹ ہے۔ جیسا کہ متی باب ۵ میں یسوع کا یہ قول ہے کہ ’’تم سن چکے ہو کہ اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت کر،، حالانکہ پہلی کتابوں میں یہ عبارت موجود نہیں۔ ایسا ہی ان کا یہ لکھنا کہ تمام مُردے بیت المقدس کی قبروں سے نکل کر شہر میں آگئے تھے۔ یہ کس قدر بے ہودہ بات ہے اور کسی معجزہ کے لکھنے کے وقت کسی انجیل نویس نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ اس کا چشم دید ماجرا ہے۔ پس ثابت ہوتا ہے کہ وقائع نویسی کے شرائط ان میں موجود نہ تھے اور ان کا بیان ہرگز اس لائق نہیں کہ کچھ بھی اس کا اعتبار کیا جائے۔ اور باوجود اس بے اعتباری کے جس بات کی طرف وہ بلاتے ہیں وہ نہایت ذلیل خیال اور قابل شرم عقیدہ ہے۔ کیا یہ بات عندالعقل قبول کرنے کے لائق ہے کہ ایک عاجز مخلوق جو تمام لوازم انسانیت کے اپنے اندر رکھتا ہے خدا کہلاوے؟ کیا عقل اس بات کو مان سکتی ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو کوڑے مارے اور خدا کے بندے اپنے قادر خدا کے مُنہ پر تھوکیں اور اس کو پکڑیں اور اس کو سولی دیں اور وہ خدا ہوکر ان کے مقابلہ سے عاجز ہو؟ کیا یہ بات کسی کو سمجھ آ سکتی ہے کہ ایک شخص خدا کہلا کر تمام رات دعا کرے اور پھر اس کی دعا قبول نہ ہو؟ کیا کوئی دل اس بات پر اطمینان پکڑ سکتا ہے کہ خدا بھی عاجز بچوں کی طرح نو مہینے تک پیٹ میں رہے اور