میں پائے جاتے ہیں کہ کسی کی مقدور میں نہیں کہ مثلاً ہستی باری پر کوئی ایسی دلیل پیدا کر سکے کہ جو قرآن شریف میں موجود نہ ہو۔
ماسوا اس کے قرآن شریف کے وجود کی ضرورت پر ایک اور بڑی دلیل یہ ہے کہ پہلی تمام کتابیں موسیٰ کی کتاب توریت سے انجیل تک ایک خاص قوم یعنی بنی اسرائیل کو اپنا مخاطب ٹھہراتی ہیں۔ اور صاف اور صریح لفظوں میں کہتی ہیں کہ ان کی ہدایتیں عام فائدہؔ کے لئے نہیں بلکہ صرف بنی اسرائیل کے وجود تک محدود ہیں۔ مگر قرآن شریف کا مدنظر تمام دنیا کی اصلاح ہے اور اس کی مخاطب کوئی خاص قوم نہیں بلکہ کھلے کھلے طور پر بیان فرماتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لئے نازل ہوا ہے اور ہر ایک کی اصلاح اس کا مقصود ہے سو بلحاظ مخاطبین کے توریت کی تعلیم اور قرآن کی تعلیم میں بڑا فرق ہے۔ مثلاً توریت کہتی ہے کہ خون مت کر اور قرآن بھی کہتا ہے کہ خون مت کر اور بظاہر قرآن میں اسی حکم کا اعادہ معلوم ہوتا ہے جو توریت میں آ چکا ہے۔ مگر دراصل اعادہ نہیں بلکہ توریت کا یہ حکم صرف بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا ہے اور صرف بنی اسرائیل کو خون سے منع فرماتا ہے دوسرے سے توریت کو کچھ غرض نہیں۔ لیکن قرآن شریف کا یہ حکم تمام دنیا سے تعلق رکھتا ہے اور تمام نوع انسان کو ناحق کی خون ریزی سے منع فرماتا ہے۔ اسی طرح تمام احکام میں قرآن شریف کی اصل غرض عامہ خلائق کی اصلاح ہے اور توریت کی غرض صرف بنی اسرائیل تک محدودہے۔
میں نے انجیلوں پر ایک یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ ان میں جس قدر معجزات لکھے گئے ہیں جن سے خواہ نخواہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی ثابت کی جاتی ہے وہ معجزات ہرگز ثابت نہیں ہیں۔ کیونکہ انجیل نویسوں کی نبوت جو مدار ثبوت تھی ثابت نہیں ہو سکی اور نہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور نہ کوئی معجزہ دکھلایا۔ باقی رہا یہ کہ انہوں نے بحیثیت ایک وقائع نویس کے معجزات کو لکھا ہو۔ سو وقائع نویسی کے شرائط بھی ان میں متحقق نہیں کیونکہ وقائع نویس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دروغ گو نہ ہو اور دوسرے یہ کہ اس کے حافظہ میں خلل نہ ہو اور تیسرے یہ کہ