اور ہر ایک چیز جو محدود اور مخلوق معلوم ہوتی ہے خواہ زمین پر ہے خواہ آسمان پر اس کی پرستش سے کنارہ کیا جائے۔ دوسرا مرتبہ توحید کا یہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے تمام کاروبار میں مؤثرِ حقیقی خداتعالیٰ کو سمجھا جائے اور اسباب پر اتنا زور نہ دیا جائے جس سے وہ خداتعالیٰ کے شریک ٹھہرجائیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ زید نہ ہوتا تو میرا یہ نقصان ہوتا اور بکر نہ ہوتا تو میں تباہ ہو ؔ جاتا۔ اگر یہ کلمات اس نیت سے کہے جائیں کہ جس سے حقیقی طور پر زید و بکر کو کچھ چیز سمجھا جائے تو یہ بھی شرک ہے۔ تیسری قسم توحید کی یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھانا اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کرنا۔ یہ توحید توریت میں کہاں ہے۔ ایسا ہی توریت میں بہشت اور دوزخ کا کچھ ذکر نہیں پایا جاتا۔ اور شاید کہیں کہیں اشارات ہوں۔ ایسا ہی توریت میں خداتعالیٰ کی صفات کاملہ کا کہیں پورے طور پر ذکر نہیں۔ اگر توریت میں کوئی ایسی سورۃ ہوتی جیسا کہ قرآن شریف میں 33 ۱؂ ہے تو شاید عیسائی اس مخلوق پرستی کی بلا سے رک جاتے۔ ایسا ہی توریت نے حقوق کے مدارج کو پورے طور پر بیان نہیں کیا۔ لیکن قرآن نے اس تعلیم کو بھی کمال تک پہنچایا ہے۔ مثلاً وہ فرماتا ہے 33۲؂ یعنی خدا حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم احسان کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم لوگوں کی ایسے طور سے خدمت کرو کہ جیسے کوئی قرابت کے جوش سے خدمت کرتا ہے۔ یعنی بنی نوع سے تمہاری ہمدردی جوش طبعی سے ہو کوئی ارادہ احسان رکھنے کا نہ ہو جیسا کہ ماں اپنے بچہ سے ہمدردی رکھتی ہے۔ ایسا ہی توریت میں خدا کی ہستی اور اس کی واحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے نہیں دکھلایا۔ لیکن قرآن شریف نے ان تمام عقائد اور نیز ضرورت الہام اور نبوت کو دلائل عقلیہ سے ثابت کیا ہے اورہر ایک بحث کو فلسفہ کے رنگ میں بیان کر کے حق کے طالبوں پر اس کا سمجھنا آسان کر دیا ہے۔ اور یہ تمام دلائل ایسے کمال سے قرآن شریف