والے سب نجات پائیں گے۔ ہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ کامل توحید جو مدار نجات ہے جس میں کوئی شرک کی تاریکی نہیں اور جو ہر ایک نقصان سے خالی ہے وہ صرف قرآنؔ میں پائی جاتی ہے۔ اس لئے التزاماً یہ بھی لازم آیا کہ ہم اس توحید کو قرآن اور نبی آخر الزمان کے ذریعہ سے ڈھونڈیں۔ کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ وہ دوسری جگہ نہیں ملتی۔ اب اس جگہ ہر ایک دانشمند سمجھ جائے گا کہ گناہ اور معافی گناہ کی فلاسفی کیا ہے۔ مگر افسوس کہ عیسائیوں کے خیال میں جما ہوا ہے کہ عذابِ الٰہی اس انسان کے عذاب کی مانند ہے جو کسی اپنے خدمتگار کو اس کی نافرمانی کی حرکات سے چڑ کر اور نہایت تنگ آکر مارتا ہے۔ پس گویا وہ اس تنگدل آقا کی مانند ہے جس نے اپنے نفس پر فرض کر رکھا ہے کہ کبھی قصور سے درگذر نہ کرے جب تک ایک قصوروار کے عوض میں دوسرے کو ذبح نہ کرلیوے۔
منجملہ میرے اعتراضات کے ایک یہ بھی تھا کہ یہ دعویٰ پادریوں کا سراسر غلط ہے کہ ’’قرآن توحید اور احکام میں نئی چیز کونسی لایا جو توریت میں نہ تھی‘‘۔ بظاہر ایک نادان توریت کو دیکھ کر دھوکہ میں پڑے گا کہ توریت میں توحید بھی موجود ہے اور احکام عبادت اور حقوق عباد کا بھی ذکر ہے۔ پھر کونسی نئی چیز ہے جو قرآن کے ذریعہ سے بیان کی گئی۔ مگر یہ دھوکہ اسی کو لگے گا جس نے کلام الٰہی میں کبھی تدبر نہیں کیا۔ واضح ہو کہ الٰہیات کا بہت سا حصہ ایسا ہے کہ توریت میں اس کا نام و نشان نہیں۔ چنانچہ توریت میں توحید کے باریک مراتب کا کہیں ذکر نہیں۔ قرآن ہم پر ظاہر فرماتا ہے کہ توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ ہم بتوں اور انسانوں اور حیوانوں اور عناصر اور اجرام فلکی اور شیاطین کی پرستش سے باز رہیں بلکہ توحید تین ۳ درجہ پر منقسم ہے درجہ اوّل عوام کے لئے یعنی ان کے لئے جو خداتعالیٰ کے غضب سے نجات پانا چاہتے ہیں۔ دوسرا درجہ خواص کے لئے یعنی ان کے لئے جو عوام کی نسبت زیادہ تر قرب الٰہی کے ساتھ خصوصیت پیدا کرنی چاہتے ہیں۔ اور تیسرا درجہ خواص الخواص کیلئے جو قرب کے کمال تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اوّل مرتبہ توحید کا تو یہی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش نہ کی جائے