دوسرؔ وں کو بھی معرض خطر میں ڈالتی ہے اور وہ عذاب جو اس پر وارد ہوتا ہے باہر سے نہیں آتا بلکہ وہی حالت اس کی اس عذاب کو پیدا کرتی ہے۔ بے شک عذاب خدا کا فعل ہے مگر اس طرح کا مثلاً جبکہ ایک انسان سَمّ الفار کو وزن کافی تک کھالے تو خداتعالیٰ اس کو مار دیتا ہے یا مثلاً جب ایک انسان اپنی کوٹھڑی کے تمام دروازے بند کر دے تو خداتعالیٰ اس گھر میں اندھیرا پیدا کر دیتا ہے۔ یا اگر مثلاً ایک انسان اپنی زبان کو کاٹ ڈالے تو خداتعالیٰ قوت گویائی اس سے چھین لیتا ہے۔ یہ سب خدا تعالیٰ کے فعل ہیں جو انسان کے فعل کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا ہی عذاب دینا خداتعالیٰ کا فعل ہے جو انسان کے اپنے ہی فعل سے پیدا ہوتا اور اُسی میں جوش مارتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جلّ شانہٗ اشارہ فرماتا ہے 3 ۱؂ یعنی خدا کا عذاب ایک عذاب ہے جس کو خدا بھڑکاتا ہے اور پہلا شعلہ اس کا انسان کے اپنے دل پر سے ہی اٹھتا ہے۔ یعنی جڑ اس کی انسان کا اپنا ہی دل ہے اور دل کے ناپاک خیالات اس جہنم کے ہیزم ہیں۔ پس جبکہ عذاب کا اصل تخم اپنے وجود کی ہی ناپاکی ہے جو عذاب کی صورت پر متمثل ہوتی ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ چیز جو اس عذاب کو دور کرتی ہے وہ راستبازی اور پاکیزگی ہے۔ اور ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ عذاب ایک سلبی چیز ہے کیونکہ راحت اور آرام ایک طبعی امر ہے اور اس کے زوال کا نام عذاب ہے اور قانون قدرت گواہی دیتا ہے کہ ہمیشہ امر سلبی امر ایجابی کے پیدا ہونے سے دور ہو جاتا ہے۔ مثلاً کوٹھڑی کے دروازے بند کرنے سے جو ایک تاریکی پیدا ہوتی ہے یہ ایک امر سلبی ہے اور اس کا پہلا اور سیدھا علاج یہ ہے کہ آفتاب کی سمت کے دروازے کھول دئیے جائیں اور دروازہ کھولنا ایک ایجابی امر ہے۔ غرض اس جگہ حقیقی نجات کے حاصل کرنے کے لئے کسی تیسری شے کی حاجت نہیں پڑتی۔ مثلاً ایک بند کوٹھڑی کا اندھیرا دور کرنے کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ اس کے دروازے کھول دئیے جائیں۔ اسی لئے قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ خدا کی توحید پر علمی اور عملی طور پر قائم ہونے