۱3 یعنی نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بدی میں ایک زہریلی خاصیت ہے کہ وہ ہلاکت تک پہنچاتی ہے۔ اسی طرح ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ نیکی میں ایک تریاقی خاصیت ہے کہ وہ موت سے بچاتی ہے۔ مثلاً گھر کے تمام دروازوں کو بند کر دینا یہ ایک بدی ہے جس کی لازمی تاثیر یہ ہے کہ اندھیرا ہو جائے۔ پھر اس کے مقابل پر یہ ہے کہ گھر کا دروازہ جو آفتاب کی طرف ہے کھولا جائے اور یہ ایک نیکی ہے جس کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ گھر کے اندر گم شدہ روشنی واپس آجائے۔ یا ہم بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ عذاب ایک سَلبی چیز ہے کیونکہ راحت کی نفی کا نام عذاب ہے اور نجات ایک ایجابی چیز ہے یعنی راحت اور خوشحالی کے دوبارہ حاصل ہوجانے کا نام نجات ہے۔ پس جیسا کہ ظلمت عدم وجود روشنی کا نام ہے ایسا ہی عذاب عدم وجود خوشحالی کا نام ہے۔ مثلاً بیماری اس حالت کا نام ہے کہ جب حالت بدن مجری طبیعت پر نہ رہے اور صحت اس حالت کا نام ہے کہ جب امور طبعیہ اپنی اصلی حالات کی طرف عود کریں۔ سو جب انسان کی روحانی حالت مجری طبیعی سے اِدھر اُدھر کھسک جائے اسی اختلال کا نام عذاب ہے۔ اور جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی عضو مثلاً ہاتھ یا پیر اپنے محل سے اتر جائے تو اسی وقت درد شروع ہو جاتا ہے اور وہ عضو اپنی خدمات مفوضہ کو بجا نہیں لا سکتا۔ اور اگر اسی حالت پر چھوڑا جائے تو رفتہ رفتہ بے کار یا متعفن ہو کر گر جاتا ہے اور بسا اوقات اس کی ہمسائیگی سے دوسرے اعضا کے بگڑنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ اور یہ درد جو اس عضو میں پیدا ہوتا ہے یہ باہر سے نہیں آتا بلکہ فطرتاً اس کی اس خراب حالت کو لازم پڑا ہوا ہے ایسا ہی عذاب کی حالت ہے کہ جب فطرتی دین سے انسان الگ ہو جائے اور حالت استقامت سے گر جائے تو عذاب شروع ہو جاتا ہے۔ گو ایک جاہل جو غفلت کی بے ہوشی میں پڑا ہوا ہے اس عذاب کا احساس نہ کرے۔ اور ایسی حالت میں ایسا بگڑا ہوا نفس روحانی خدمات کے لائق نہیں رہتا اور اگر اسی حالت میں ایک مدت تک رہے تو بالکل بیکار ہو جاتا ہے۔ اور اس کی ہمسائیگی