غرض گناہ اور غفلت کی تاریکی دور کرنے کے لئے نور کا پانا ضروری ہے۔ اسی کی طرف اللہ جلّ شانہٗ اشارہ فرماتا ہے 3 3۔۱؂ یعنی جوشخص اس جہان میں اندھا ہو وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر۔ یعنی خدا کے دیکھنے کی آنکھیں اور اس کے دریافت کرنے کے حواس اسی جہان سے ملتے ہیں جس کو اس جہان میں نہیں ملے اس کو دوسرے جہاں میں بھی نہیں ملیں گے۔ راستباز جو قیامت کے دن خدا کو دیکھیں گے وہ اسی جگہ سے دیکھنے والے حواس ساتھ لے جائیں گے۔ اور جو شخص اس جگہ خدا کی آواز نہیں سنے گا وہ اس جگہ بھی نہیں سنے گا۔ خدا کو جیسا کہ خدا ہے بغیر کسی غلطی کے پہچاننا اور اسی عالم میں سچے اور صحیح طور پر اس کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرنا یہی تمام روشنی کا مبدء ہے۔ اسی مقام سے ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا یہ مذہب ہے کہ خدا پر بھی موت اور دکھ اور مصیبت اور جہالت وارد ہو جاتی ہے اور وہ بھی ملعون ہوکر سچی پاکیزگی اور رحمت اور علوم حقہ سے محروم ہو جاتا ہے ایسے لوگ گمراہی کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں اور سچے علوم اور حقیقی معارف جو درحقیقت مدار نجات ہیں ان سے وہ لوگ درحقیقت بے خبر ہیں۔ نجات کا مفت ملنا اور اعمال کو غیر ضروری ٹھہرانا جو عیسائیوں کا خیال ہے یہ ان کی سراسر غلطی ہے۔ ان کے فرضی خدا نے بھی چالیس روزے رکھے تھے اور موسیٰ نے کوہِ سینا پر روزے رکھے۔ پس اگر اعمال کچھ چیز نہیں ہیں تو یہ دونوں بزرگ اس بے ہودہ کام میں کیوں پڑے۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خداتعالیٰ بدی سے سخت بیزار ہے تو ہمیں اس سے سمجھ آتا ہے کہ وہ نیکی کرنے سے نہایت درجہ خوش ہوتا ہے پس اس صورت میں نیکی بدی کا کفارہ ٹھہرتی ہے۔ اور جب ایک انسان بدی کرنے کے بعد ایسی نیکی بجا لایا جس سے خداتعالیٰ خوش ہوا تو ضرور ہے کہ پہلی بات موقوف ہو کر دوسریؔ بات قائم ہو جائے ورنہ خلاف عدل ہوگا۔ اسی کے مطابق اللہ جلّ شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے