کی سلطنتوں میں بھی یہی دیکھتے ہیں کہ جرائم پیشہ کو سزا ملتی ہے لیکن جو لوگ اچھے کاموں سے گورنمنٹ کو خوش کرتے ہیں وہ مورد انعام و اکرام ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خداتعالیٰ کی اصل صفت رحم ہے اور عدل عقل اور قانون عطا کرنے کے بعد پیدا ہوتاہے اور حقیقت میں وہ بھی ایک رحم ہے جو اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب کسی انسان کو عقل عطا ہوتی ہے اور بذریعہ عقل وہ خدا تعالیٰ کے حدود اور قوانین سے واقف ہوتا ہے تب اس حالت میں وہ عدل کے مواخذہ کے نیچے آتا ہے لیکن رحم کے لئے عقل اور قانون کی شرط نہیں۔ اور چونکہ خداتعالیٰ نے رحم کر کے انسانوں کو سب سے زیادہ فضیلت دینی چاہی اس لئے اس نے انسانوں کے لئے عدل کے قواعد اور حدود مرتّب کئے سو عدل اور رحم میں تناقض سمجھنا جہالت ہے۔
ایکؔ اعتراض جو میں نے پادریوں کے اصول پر کیا تھا یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ’’انسان اور تمام حیوانات کی موت آدم کے گناہ کا پھل ہے‘‘۔ حالانکہ یہ خیال دو طور سے صحیح نہیں ہے اول یہ کہ کوئی محقق اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ آدم کے وجود سے پہلے بھی ایک مخلوقات دنیا میں رہ چکی ہے اور وہ مرتے بھی تھے اور اُس وقت نہ آدم موجود تھا اور نہ آدم کا گناہ پس یہ موت کیونکر پیدا ہوگئی۔ دوسرے یہ کہ اس میں شک نہیں کہ آدم بہشت میں بغیر ایک منع کئے ہوئے پھل کے اور سب چیزیں کھاتا تھا پس کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ وہ گوشت بھی کھاتا ہوگا- اس صورت میں بھی آدم کے گناہ سے پہلے حیوانات کی موت ثابت ہوتی ہے۔ اور اگر اس سے بھی درگذر کریں تو کیا ہم دوسرے امر سے بھی انکار کر سکتے ہیں کہ آدم بہشت میں ضرور پانی پیتا تھا کیونکہ کھانا اور پینا ہمیشہ سے ایک دوسرے سے لازم پڑے ہوئے ہیں۔ اور طبعی تحقیقات سے ثابت ہے کہ ہر ایک قطرہ میں کئی ہزار کیڑے ہوتے ہیں پس کچھ شک نہیں کہ آدم کے گناہ سے پہلے کروڑ ہا کیڑے مرتے تھے۔ پس اس سے بہرحال ماننا پڑتا ہے کہ موت گناہ کا پھل نہیں۔ اور یہ امر عیسائیوں کے اصول کو باطل کرتا ہے۔