طرح عدل میں فرق نہ آوے اور رحم بھی وقوع میں آجائے۔ مگر ایک بے گناہ کے گلے پر ناحق چھری پھیر کر نہ عدل قائم رہ سکا اور نہ رحم۔ لیکن یہ وسوسہ کہ عدل اور رحم دونوں خداتعالیٰ کی ذات میں جمع نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ عدل کا تقاضا ہے کہ سزا دی جائے اور رحم کا تقاضا ہے کہ درگذر کی جائے۔ یہ ایک ایسا دھوکہ ہے کہ جس میں قلّتِ تدبّر سے کوتہ اندیش عیسائی گرفتار ہیں۔ وہ غور نہیں کرتے کہ خداتعالیٰ کا عدل بھی تو ایک رحم ہے۔ وجہ یہ کہ وہ سراسر انسانوں کے فائدہ کے لئے ہے۔ مثلاً اگر خداتعالیٰ ایک خونی کی نسبت باعتبار اپنے عدل کے حکم فرماتا ہے کہ وہ مارا جائے تو اس سے اس کی الوہیت کو کچھ ؔ فائدہ نہیں۔ بلکہ اس لئے چاہتا ہے کہ تا نوع انسان ایک دوسرے کو مار کر نابود نہ ہوجائیں۔ سو یہ نوع انسان کے حق میں رحم ہے اور یہ تمام حقوق عباد خداتعالیٰ نے اسی لئے قائم کئے ہیں کہ تا امن قائم رہے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر ظلم کر کے دنیا میں فساد نہ ڈالیں۔ سو وہ تمام حقوق اور سزائیں جو مال اور جان اور آبرو کے متعلق ہیں درحقیقت نوع انسان کے لئے ایک رحم ہے۔ انجیل میں کہیں نہیں لکھا کہ یسوع کے کفّارہ سے چوری کرنا۔ بیگانہ مال دبا لینا۔ ڈاکہ مارنا۔ خون کرنا۔ جھوٹی گواہی دینا سب جائز اور حلال ہو جاتے ہیں اور سزائیں معاف ہو جاتی ہیں بلکہ ہر ایک جرم کے لئے سزا ہے اسی لئے یسوع نے کہا کہ ’’اگر تیری آنکھ گناہ کرے تو اسے نکال ڈال کیونکہ کانا ہو کر زندگی بسر کرنا جہنم میں پڑنے سے تیرے لئے بہتر ہے‘‘۔ پس جبکہ حقوق کے تلف کرنے پر سزائیں مقرر ہیں جن کو مسیح کا کفّارہ دور نہیں کرسکا تو کفّارہ نے کن سزاؤں سے نجات بخشی۔ پس حقیقت یہ ہے کہ خداتعالیٰ کا عدل بجائے خود ہے اور رحم بجائے خود ہے۔ جو لوگ اچھے کام کر کے اپنے تئیں رحم کے لائق بناتے ہیں ان پر رحم ہو جاتا ہے۔ اور جو لوگ مار کھانے کے کام کرتے ہیں ان کو مار پڑتی ہے۔ پس عدل اور رحم میں کوئی جھگڑا نہیں گویا وہ د۲و نہریں ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر چل رہی ہیں۔ ایک نہر دوسرے کی ہرگز مزاحم نہیں ہے۔ دنیا