ایک اور اعتراض میں نے اپنی کتابوں میں کیا تھا جو پادریوں کی انجیلوں متی وغیرہ پر وارد ہوتا ہے۔ جس کے جواب سے پادری صاحبان عاجز ہیں اور وہ یہ ہے کہ ان کی انجیلیں اس وجہ سے بھی قابل اعتبار نہیں کہ ان میں جھوٹ سے بہت کام لیا گیا ہے۔ جیساکہ لکھا ہے کہ یسوع نے اتنے کام کئے ہیں کہ اگر وہ لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سما نہ سکتیں۔ پس سوچو کہ یہ کس قدر جھوٹ ہے کہ جو کام تین برس کے زمانہ میں سما گئے اور مدت قلیلہ میں محدود ہوگئے کیا وجہ کہ وہ کتابوں میں سما نہ سکتے۔ پھر ان ہی انجیلوں میں یسوع کا قول لکھا ہے کہ ’’مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں‘‘۔ حالانکہ ان ہی کتابوں سے ثابت ہے کہ یسوع کی ماں کا ایک گھر تھا جس میں وہ رہتا تھا۔ اور سر رکھنے کے کیا معنے گذارہ کے موافق اس کے لئے مکان موجود تھا۔ اور پھر انجیلوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ یسوع ایک مالدار آدمی تھا ہر وقت روپیہ کی تھیلی ساتھ رہتی تھی جس میں قیاس کیا جاتا ہے کہ دو دو تین تین ہزار روپیہ تک یسوع کے پاس جمع رہتا تھا۔ اور یسوع کے اس خزانہ کا یہودا اسکریوطی خزانچی تھاوہ نالائق اس روپیہ میں سے کچھ چورا بھی لیاؔ کرتا تھا۔ اور انجیلوں سے یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ یسوع نے اس روپیہ میں سے کبھی کچھ لِلّٰہ بھی دیا۔ پس کیا وجہ کہ باوجود اس قدر روپیہ کے جس سے ایک امیرانہ مکان بن سکتا تھا پھر یسوع کہتا تھا کہ ’’مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ پھر تیسر۳اجھوٹ انجیلوں میں یہ ہے کہ مثلاً متی اپنی کتاب کے تیسرے باب میں لکھتا ہے کہ گویا پہلی کتابوں میں یہ لکھا ہوا تھا کہ وہ یعنی یسوع ناصری کہلائے گا حالانکہ نبیوں کی کتابوں میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں۔ پھر چو۴تھا جھوٹ یہ ہے کہ وہ ایک پیشگوئی کو خواہ نخواہ یسوع پر جمانے کے لئے ناصرہ کے معنے شاخ کرتا ہے۔ حالانکہ عبرانی میں ناصرہ سرسبز اور خوش منظر مکان کو کہتے ہیں نہ کہ شاخ کو۔ اسی لفظ کو عربی میں ناضرہ کہتے ہیں۔ ایسے ہی اور بہت جھوٹ ہیں جو خدا کی کلام میں ہرگز نہیں ہو سکتے۔* یہ ایک ایساامر تھا *نوٹ:۔ متی نے اپنی انجیل کے باب پانچ میں ایک نہایت مکروہ جھوٹ بولا ہے یعنی یہ کہ گویا پہلی کتابوں میں یہ حکم لکھا ہوا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت۔ حالانکہ یہ حکم کسی پہلی کتاب میں موجود نہیں۔ اور پھر دوسرا جھوٹ یہ کہ اس قول کو یسوع کی طرف نسبت کیا ہے۔ منہ