مگر جب آرام دینے کا وقت آیا تو صرف روح کو آرام دیا۔ میں سوچتا ہوں کہ کیونکر یہ لوگ ایسی ایسی فاش غلطیوں پر خوش ہو جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ قرآن میں صرف جسمانی بہشت کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کو تعصب نے دیوانہ کر دیا۔ قرآن تو بہشتیوں کے لئے جابجا روحانی لذات کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ 3۔۱؂ یعنی قیامت کو وہ منہ تروتازہ ہوں گے جو اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔ کیا یہ جسمانی لذات کا ذکر ہے یا روحانی کا افسوس کہ ان لوگوں کے کیسے دل سخت ہوگئے اور کیونکر انہوں نے سچائی اور انصاف اور حقؔ پسندی کو اپنے ہاتھ سے پھینک دیا۔ اے نادانو! اور شریعتِ حقہ کے اسرار سے بے خبرو! کیا ضرور نہ تھا کہ خدا قیامت کے دن انسان کی دنیوی زندگی کے دونوں سلسلہ جسمانی اور روحانی کی رعایت کر کے اس کو جزا اور سزا دیتا؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ انسان اس مسافر خانہ میں آکر دونوں طور پر اعمال بجالاتا اور اپنے تئیں دونوں قسم کی مشقت میں ڈالتا ہے۔ ماسوا اس کے دنیا کی تمام الہامی کتابوں میں کم و بیش یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ بہشت اور دوزخ میں جسمانی طور پر بھی لذّات اور عقوبات ہوں گی۔ چنانچہ خود مسیح نے بھی کئی جگہ انجیل میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر تعجب ہے کہ حضرات پادری صاحبان کیوں بہشت کی جسمانی لذّات سے منکر ہیں جب کہ باقرار عیسائیاں بہشتیوں کو جسم ملے گا جو ادراک اور شعور رکھتا ہوگا تو پھر وہ جسم دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا راحت میں ہوگا یا عقوبت میں۔ پس بہرحال جسمانی راحت اور عذاب دونوں کو ماننا پڑا۔ ہم نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ خداتعالیٰ کا عدل بغیر کفارہ کے کیونکر پورا ہو بالکل مہمل ہے۔ کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ یسوع باعتبار اپنی انسانیت کے بے گناہ تھا۔ مگر پھر بھی ان کے خدا نے یسوع پر ناحق تمام جہان کی *** ڈال کر اپنے عدل کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے خدا کو عدل کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔ یہ خوب انتظام ہے کہ جس بات سے گریز تھا اسی کو بہ اقبح طریق اختیار کرلیا گیا۔ واویلا تو یہ تھا کہ کسی