اگر یہی جسم زندہ ہو جایا کرتا تو البتہ لوگ اس کو دیکھتے مگر باایں ہمہ قرآن سے زندہ ہو جانا ثابت ہے لہٰذا یہ ماننا پڑتا ہے کہ کسی اور جسم کے ذریعہ سے جس کو ہم نہیں دیکھتے انسان کو زندہ کیا جاتا ہے اور غالباً وہ جسم اسی جسم کے لطائف جوہر سے بنتا ہے تب جسم ملنے کے بعد انسانی قویٰ بحال ہوتے ہیں اور یہ دوسرا جسم چونکہ پہلے جسمؔ کی نسبت نہایت لطیف ہوتا ہے اس لئے اس پر مکاشفات کا دروازہ نہایت وسیع طور پر کھلتا ہے اور معاد کی تمام حقیقتیں جیسی کہ وہ ہیں کَمَا ھِیَہی نظر آجاتی ہیں۔ تب خطا کرنے والوں کو علاوہ جسمانی عذاب کے ایک حسرت کا عذاب بھی ہوتا ہے۔ غرض یہ اصول متفق علیہ اسلام میں ہے کہ قبر کا عذاب یا آرام بھی جسم کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے اور اسی بات کو دلائل عقلیہ بھی چاہتے ہیں۔ کیونکہ متواتر تجربہ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کے روحانی قویٰ بغیر جسم کے جوڑ کے ہرگز ظہور پذیر نہیں ہوتے۔ عیسائی اس بات کے تو قائل ہیں کہ قبر کا عذاب جسم کے ذریعہ سے ہوتا ہے مگر بہشتی آرام کے لئے جسم کو شریک نہیں کرتے۔ سو یہ سراسر ان کی غلطی ہے اور وہ غلط اور ناقص تعلیم جو انجیل کی طرف منسوب کی جاتی ہے وہی ان فاسد خیالات کی موجب ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں انسان نیکی کرنے کے لئے دوہری مصیبت اٹھاتا ہے یعنی وہ اپنے روح اور جسم دونوں کو خداتعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے مشقت میں ڈالتا اور محنت سے ان دونوں سے کام لیتاہے ایسا ہی وہ بدی کرنے کے وقت بھی دوہری نافرمانی کرتا ہے یعنی یہ کہ وہ اپنی روح اور جسم دونوں کونافرمانی کی راہ میں لگاتا ہے اس لئے خداتعالیٰ کے عدل نے تقاضا کیا کہ اس عالم میں بھی دوہری راحت یا دوہرا رنج اس کو ملے اور روحانی جسمانی دونوں طور پر اپنے اعمال کا بدلہ پاوے۔ مگر افسوس کہ عیسائی دوزخ کے عذاب کے بارے میں تو اس عادلانہ اصول پر کاربند ہوئے لیکن بہشتی جزا کے بارے میں اس اصول کو بھلا دیا گویا ان کے نزدیک خداتعالیٰ کو عذاب دینا زیادہ پیارا ہے کہ عذاب تو روح اور جسم دونوں کو دیا