70 کہتا ہے کہ ’’مجھے قیامت کی خبر نہیں‘‘۔ اور اگر اس کی روح میں جو بقول عیسائیاں اقنوم ثانی سے عینیّت رکھتی تھی خدائی پاکیزگی تھی تو وہ کیوں کہتا ہے کہ ’’مجھے نیک نہ کہو‘‘۔ اور اگر اس میں قدرت تھی تو کیوں اس کی تمام رات کی دعا قبول نہ ہوئی اور کیوں اس کا اس نامرادی کے کلمہ پر خاتمہ ہوا کہ اس نے ’’ایلی ایلی لما سبقتنی‘‘ کہتے ہوئے جان دی۔ ایسا ہی ہم نے عیسائیوں کی یہ غلطی بھی ظاہر کر دی ہے کہ ان کا یہ خیال کہ بہشت صرف ایک امر روحانی ہوگا ٹھیک نہیں ہے۔* ہم ثابت کر چکے ہیں کہ انسان کی ایک ایسی فطرت ہے کہ اس کے روحانی قویٰ میں بوجہ اکمل و اتم صادر ہونے کے لئے ایک جسم کے محتاج ہیں۔ مثلاً ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ سر کے کسی حصہ پر چوٹ لگنے سے قوت حافظہ جاتی رہتی ہے اور کسی حصہ کے صدمہ سے قوت متفکّرہ رخصت ہوتی ہے۔ اور منبت اعصاب میں خلل پیدا ہونے سے بہت سے روحانی قویٰ میں خلل پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر جبکہ روح کی یہ حالت ہے کہ وہ جسم کے ادنیٰ خلل سے اپنے کمال سے فی الفور نقصان کی طرف عود کرتی ہے تو ہم کس طرح امید رکھیں کہ جسم کی پوری پوری جدائی سے وہ اپنی حالت پر قائم رہ سکے گی۔ اس لئے اسلام میں یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی فلاسفی ہے کہ ہر ایک کو قبر میں ہی ایسا جسم مل جاتا ہے کہ جو لذّات اور عذاب کے ادراک کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ ہم ٹھیک ٹھیک نہیں کہہ سکتے کہ وہ جسم کس مادہ سے طیّار ہوتا ہے کیونکہ یہ فانی جسم تو کالعدم ہو جاتا ہے اور نہ کوئی مشاہدہ کرتا ہے کہ درحقیقت یہی جسم قبر میں زندہ ہوتا ہے اس لئے کہ بسا اوقات یہ جسم جلایا بھی جاتا ہے اور عجائب گھروں میں لاشیں بھی رکھی جاتی ہیں اور مدتوں تک قبر سے باہر بھی رکھا جاتا ہے۔ قرآن شریف کی تعلیم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جیسا کہ یہ بات ٹھیک نہیں کہ بہشت کی لذّات صرف روحانی ہیں اور دنیوی جسمانی لذّات سے بالکل مخالف ہیں ایسا ہی یہ بھی درست نہیں کہ وہ لذّات دنیوی جسمانی لذّات سے بالکل مطابق ہے بلکہ عالم رؤ یا کی طرح صورت میں مشابہت ہے اور حقیقت میں مغایرت ہے۔ عالم رؤیا کے پھل اور عالم رؤیا کی خوبصورت عورتیں ظاہر صورت میں وہی لذّات بخشتی ہیں جو عالم جسمانی میں ہیں مگر عالم رؤیا کی حقیقت اور اس عالم جسمانی کی حقیقت اور ہے۔ منہ