غرض جبکہ خدا بننے کا یہ قاعدہ ہے کہ کوئی بے گناہ ہو تو عقل تجویز کرتی ہے کہ جس طرح یسوع کے لئے یہ اتفاق پیش آگیا کہ بقول عیسائیاں وہ ایک مدت تک گناہ نہ کر سکا یہ اتفاق دوسرے کے لئے بھی ممکن ہے اور اگر ممکن نہیں تو کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہو سکتی کہ یسوع کے لئے کیوں ممکن ہوگیا اور دوسروں کے لئے کیوں غیر ممکن ہے۔ یسوع کی انسانیت کو من حیث الانسانیت اقنوم ثانی سے کچھ تعلق نہ تھا صرف اس اتفاق کے پیش آنے سے کہ وہ بقول عیسائیان ایک مدت تک گناہ سے بچ سکا اقنوم ثانی نے اس سے اتحاد کیا۔ سو اس اتحاد کی بنا ایک کسبی امر ہے جس میں ہر ایک کسب کنندہ کا اشتراک ہے۔ اور ایک گروہ عیسائیوں کا جس میں عبداللہ آتھم بھی داخل تھا یہ بھی کہتا ہے کہ اقنوم ثانی کا تیس برس تک یسوع سے ہرگز تعلق نہ تھا صرف کبوتر کے نزول کے وقت سے وہ تعلق شروع ہوا۔ اس سے ضروری طور پر یہ ماننا پڑتا ہے کہ یسوع تیس برس گنہگار اور مرتکب معاصی رہا کیونکہ اگر وہ اس عرصہ میں گناہ سے پاک ہوتا تو قاعدہ مذکورہ بالا کے رو سے لازم تھا کہ پہلے ہی اقنوم ثانی کا تعلق اتحادی اس سے ہو جاتا۔ اور اس جگہ ایک مخالف کہہ سکتا ہے کہ شاید یہی وجہ ہو کہ یسوع کی گذشتہ تیس سال کی زندگی کی نسبت کسی پادری صاحب نے تفصیل وار سوانح کے لکھنے کیلئے قلم نہیں اٹھائی کیونکہ ان حالات کو قابل ذکر نہیں سمجھا۔
بہرحال یہ تمام دعوے ہی دعوے ہیں۔ ان تمام امور میں سے کسی امر کا ثبوت نہیں دیا گیا نہ کسی نے ثابت کر کے دکھلایا کہ یسوع نے ابتدائی عمر سے آخر تک کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ کسی نے یہ ثابت کیا کہ اس بے گناہی کی وجہ سے وہ خدا بن گیا۔ تعجب کہ اس خاص طرز کی خدائی کے لئے جو دنیا کی کثرت رائے کے مخالف اور مشرکانہ طریقوں سے مشابہ تھی کچھ بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اور ظاہر ہے کہ متفق علیہا عقیدہ دنیا میں یہی ہے کہ ؔ خدا موت اور تولّد اور بھوک اور پیاس اور نادانی اور عجز یعنی عدم قدرت اور تجسّم اور تحیّز سے پاک ہے مگر یسوع ان میں سے کسی بات سے بھی پاک نہ تھا۔ اگر یسوع میں خدا کی روح تھی تو وہ کیوں