ہی ایسی عمدہ ہے کہ جو بطور نشان کے ہے‘‘۔ لیکن درحقیقت یہ ان کی بڑی غلطی ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ انجیل کی تعلیم نہایت ہی ناقص ہے۔ اسی لئے حضرت مسیح کو بھی عذر کرنا پڑا کہ ’’آنے والا فارقلیط اس نقصان کا تدارک کرے گا‘‘۔ ہمیں اس سے کچھ بحث نہیں کہ انجیل کے ثناخوان دکھلاتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور۔ لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ انجیل انسانیت کے درخت کی پورے طور پر آب پاشی نہیں کر سکتی۔ ہم اس مسافرخانہ میں بہت سے قویٰ کے ساتھ بھیجے گئے ہیں اور ہر ایک قوت چاہتی ہے کہ اپنے موقعہ پر اس کو استعمال کیا جائے۔ اور انجیل صرف ایک ہی قوت حلم اور نرمی پرزور مار رہی ہے۔ حلم اور عفو درحقیقت بعض مواضع میں اچھی ہے لیکن بعض دوسرے مواضع میں سمّ قاتل کی تاثیر رکھتی ہے۔ ہماری یہ تمدنی زندگی کہ مختلف طبائع کے اختلاط پر موقوف ہے بلاشبہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے تمام قویٰ کو محل بینی اور موقعہ شناسی سے استعمال کیا کریں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اگرچہ بعض جگہ ہم عفو اور درگذر کر کے اس شخص کو فائدہ جسمانی اور روحانی پہنچاتے ہیں جس نے ہمیں کوئی آزار پہنچایا ہے لیکن بعض دوسری جگہ ایسی بھی ہیں جو اس جگہ ہم اس خصلت کو استعمال کرنے سے شخص مجرم کو اور بھی مفسدانہ حرکات پر دلیر کرتے ہیں۔
ہماری روحانی زندگی کی طرز ہماری جسمانی زندگی کی طرز سے نہایت مشابہ ہے۔ ہم دیکھتے ہیںؔ کہ ہر جگہ ایک ہی مزاج اور طبیعت کی اغذیہ اور ادویہ پر زور مارنے سے ہماری صحت بحال نہیں رہ سکتی۔ اگر ہم دس یا بیس روز متواتر ٹھنڈی چیزوں کے کھانے پر ہی زور دیں اور گرم غذاؤں کا کھانا حرام کی طرح اپنے نفس پر کر دیں تو ہم جلد تر کسی سرد بیماری میں جیسے فالج اور لقوہ اور رعشہ اور صرع وغیرہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اور ایساہی اگر ہم متواتر گرم غذاؤں پر زور دیں یہاں تک کہ پانی بھی گرم کر کے ہی پیا کریں تو بلاشبہ کسی مرض حار میں گرفتار ہو جائیں گے سوچ کر دیکھ لو کہ ہم اپنے جسمانی تمدن میں کیسے گرم اور سرد اور نرم اور سخت اور حرکت اور سکون کی رعایت رکھتے ہیں اور کیسی یہ رعایت ہماری صحت بدنی کے لئے ضروری پڑی ہوئی ہے۔