پس یہی قاعدہ صحت روحانی کے لئے برتنا چاہیے۔ خدا نے کسی بُری قوت کو ہمیں نہیں دیا۔ اور درحقیقت کوئی بھی قوت بری نہیں صرف اس کی بد استعمالی بُری ہے۔ مثلاً تم دیکھتے ہو کہ حسد نہایت ہی بری چیز ہے۔ لیکن اگر ہم اس قوت کو بُرے طور پر استعمال نہ کریں تو یہ صرف اس رشک کے رنگ میں آ جاتی ہے جس کو عربی میں غِبْطہ کہتے ہیں یعنی کسی کی اچھی حالت دیکھ کر خواہش کرنا کہ میری بھی اچھی حالت ہو جائے۔ اور یہ خصلت اخلاق فاضلہ میں سے ہے۔ اسی طرح تمام اخلاق ذمیمہ کا حال ہے کہ وہ ہماری ہی بداستعمالی یا افراط اور تفریط سے بدنما ہو جاتی ہیں اور موقعہ پر استعمال کرنے اور حدّ اعتدال پر لانے سے وہی اخلاق ذمیمہ اخلاق فاضلہ کہلاتے ہیں۔ پس یہ کس قدر غلطی ہے کہ انسانیت کے درخت کی تمام ضروری شاخیں کاٹ کر صرف ایک ہی شاخ صبر اور عفو پر زور دیا جائے۔ اسی وجہ سے یہ تعلیم چل نہیں سکی۔ اور آخر عیسائی سلاطین کو جرائم پیشہ کی سزا کے لئے قوانین اپنی طرف سے طیار کرنے پڑے۔ غرض انجیل موجودہ ہرگز نفوس انسانیہ کی تکمیل نہیں کر سکتی اور جس طرح آفتاب کے نکلنے سے ستارے مضمحل ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ آنکھوں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ یہی حالت انجیل کی قرآن شریف کے مقابل پر ہے۔ پس یہ بات نہایت قابل شرم ہے کہ یہ دعویٰ کیا جائے کہ انجیل کی تعلیم بھی ایک آسمانی نشان ہے!!! ہم نے یہ حصہ انجیلی تعلیم کا وہ لکھا ہے جو انسانی تہذیب کے متعلق ہے۔ مگر بقول عیسائیاں جو انجیل نے خداتعالیٰ کی نسبت اعتقاد سکھایا ہے وہ اور بھی انسان کوؔ اس سے متنفّر کرتا ہے۔ عیسائیوں کا عقیدہ جو انجیل پر تھا پا جاتا ہے یہ ہے کہ ’’اقنوم ثانی جو ابن اللہ کہلاتا ہے وہ قدیم سے اس بات کا خواہشمند تھا کہ کسی انسان کو بے گناہ پاکر اس سے ایسا تعلق پکڑے کہ وہی ہو جائے‘‘۔ سو ایسا انسان اس کو یسوع سے پہلے کوئی نہ ملا اور نوع انسان کا ایک لمبا سلسلہ جو یسوع سے پہلے چلا آتا تھا اس میں اس صفت کا آدمی کوئی نہ پایا گیا۔ آخر یسوع پیدا ہوا اور وہ اس صفت کا آدمی تھا۔ لہٰذا اقنوم ثانی نے اس سے تعلق عینیّت پیدا