کہ بچوں کی طرح گردوغبار میں کھیلتے اور کوئلوں پر لیٹتے ہیں اور پھر آرزو کرتے ہیں کہ ہمارے کپڑے سفید رہیں۔ اور حقیقی نور کو تلاش نہیں کرتے اور پھر چاہتے ہیں کہ ظلمت سے نجات پاویں۔ حقیقی نور کیا ہے؟ وہ جو تسلی بخش نشانوں کے رنگ میں آسمان سے اترتا اور دلوں کو سکینت اور اطمینان بخشتا ہے۔ اس نور کی ہر ایک نجات کے خواہشمند کو ضرورت ہے۔ کیونکہ جس کو شبہات سے نجات نہیں اس کو عذاب سے بھی نجات نہیں۔ جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت میں بھی تاریکی میں گرے گا۔ خدا کا قول ہے کہ 3 3۔۱؂ اور خدا نے اپنی کتاب میں بہت جگہ اشارہ فرمایا ہے کہ میں اپنے ڈھونڈنے والوں کے دل نشانوں سے منور کروں گا۔ یہاں تک کہ وہ خدا کو دیکھیں گے اور میں اپنی عظمت انہیں دکھلا دوں گا یہاں تک کہ سب عظمتیں ان کی نگاہ میں ہیچ ہو جائیں گی۔ یہی باتیں ہیں جو میں نے براہ راست خدا کے مکالمات سے بھی سنیں پس میری روح بول اٹھی کہ خدا تک پہنچنے کی یہی راہ ہے اور گناہ پر غالب آنے کا یہی طریق ہے۔ حقیقت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم حقیقت پر قدم ماریں۔ فرضی تجویزیں اور خیالی منصوبے ہمیں کام نہیں دے سکتے۔ ہم اس بات کے گواہؔ ہیں اور تمام دنیا کے سامنے اس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اس حقیقت کو جو خدا تک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا ہم نے اس خدا کی آواز سنی اور اس کے پُرزور بازو کے نشان دیکھے جس نے قرآن کو بھیجا۔ سو ہم یقین لائے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ ہمارا دل اس یقین سے ایسا پُر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے۔ سو ہم بصیرت کی راہ سے اس دین اور اس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں ہم نے اس نورحقیقی کو پایا جس کے ساتھ سب ظلمانی پردے اٹھ جاتے ہیں اور غیر اللہ سے درحقیقت دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ یہی ایک راہ ہے جس سے انسان نفسانی جذبات اور ظلمات سے ایسا باہر آجاتا ہے جیسا کہ سانپ اپنی کینچلی سے۔ عیسائی مذہب ان نشانوں سے بکلّی محروم ہے۔ دعویٰ اتنا بڑا کہ ایک انسان کو خدا بنانا چاہتے ہیں اور ثبوت میں صرف قصے کہانیاں پیش کرتے ہیں ہاں بعض کہتے ہیں کہ ’’انجیل کی تعلیم