لعنتوں کا مجموعہ تھی۔ لیکن جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک انسان کے گناہ اس کے ساتھ ہیں اور فطرت نے جس قدر کسی کو کسی جذبہ نفسانی یا افراط اور تفریط کا حصہ دیا ہے وہ اس کے وجود میں محسوس ہو رہا ہے گو وہ یسوع کو مانتا ہے یا نہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جیسا کہ *** زندگی والوں کی *** زندگی ان سے علیحدہ نہیں ہو سکی ایسا ہی وہ یسوع پر بھی پڑ نہیں سکی کیونکہ جب کہ *** اپنے محل پر خوب چسپاں ہے تو وہ یسوع کی طرف کیونکر منتقل ہو سکے گی۔ اور یہ عجیب ظلم ہے کہ ہر ایک خبیث اور ملعون جو یسوع پر ایمان لاوے تو اس کی *** یسوع پر پڑے اور اس شخص کو بَری اور پاکدامن سمجھا جائے۔ پس ایسا غیر منقطع سلسلہ لعنتوں کا جو قیامت تک ممتد رہے گا اگر وہ ہمیشہ تازہ طور پر غریب یسوع پر ڈالاجائے تو کس زمانے میں اس کو لعنتوں سے سُبکدوشی ہوگی کیونکہ جب وہ ایک گروہ کی لعنتوں سے اپنے تئیں سبکدوش کر لے گا تو پھر نیا آنے والا گروہ جو اپنے خبیث وجود کے ساتھ نئی لعنتیں رکھتا ہے وہ اپنی تمام لعنتیں اس پر ڈال دے گا۔ علٰیؔ ہذا القیاس اس کے بعد دوسرا گروہ دوسری لعنتوں کے ساتھ آئے گا تو پھر ان مسلسل لعنتوں سے فرصت کیونکر ہوگی؟اس سے تو ماننا پڑتا ہے کہ یسوع کے لئے وہ دن پھر کبھی نہیں آئیں گے جو اس کو خدا کی محبت اور معرفت کے نور کے سایہ میں رکھنے والے ہوں۔ پس ایسے عقیدہ سے اگر کچھ حاصل ہوا تو وہ یہی ہے کہ ان لوگوں نے ایک خداکے مقدس کو ایک غیر منقطع ناپاکی میں ڈالنے کا ارادہ کیا ہے اور بدقسمتی سے اس اصل بات کو چھوڑ دیا ہے جس سے گناہ دور ہوتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ آنکھ پیدا کرنا جو خدا کی عظمت کو دیکھے اور وہ یقین حاصل کرنا جو گناہ کی تاریکی سے چھوڑا وے۔ زمین تاریکی پیدا کرتی ہے اور آسمان تاریکی کو اٹھاتا ہے پس جب تک آسمانی نور جو نشانوں کے رنگ میں حاصل ہوتا ہے کسی دل کو نہ چھوڑاوے حقیقی پاکیزگی حاصل ہو جانا بالکل جھوٹ ہے اور سراسر باطل اور خیال محال ہے۔ پس گناہوں سے بچنے کیلئے اس نور کی تلاش میں لگنا چاہیے جو یقین کی کرّار فوجوں کے ساتھ آسمان سے نازل ہوتا اور ہمت بخشتا اور قوت بخشتا اور تمام شبہات کی غلاظتوں کو دھو دیتا اور دل کو صاف کرتا اور خدا کی ہمسائیگی میں انسان کا گھر بنا دیتا ہے۔ پس افسوس ان لوگوں پر