کے لینے کی کیا حاجت ہے؟ کیا ہمیں پہلے سے معلوم نہیں کہ یہ نظام جو اَبلغ اور مُحکم ہے اور یہ ترتیب جو اَنسب اور اَنفع ہے ضرور ایک مدبّرصانع حکیم علیم کی ضرورت ثابت کر رہی ہے۔ مگر یہ بات کہ ایسے صانع کی ضرورت ہے اور یہ دوسری بات کہ ہم علم الیقین کی آنکھ سے دیکھ لیں کہ وہ صانع درحقیقت موجود بھی ہے۔ ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔ اس لئے ایک حکیم کو جو صرف قیاسی طور پر خدا کے وجود کا قائل ہے۔ سچی پاکیزگی اور خدا ترسی کا کمال حاصل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ صرف ضرورت کا علم الٰہی رُعب اپنےؔ اندر نہیں رکھتا اور تاریکی کو اٹھا نہیں سکتا۔ مگر جس پر براہِ راست آسمان سے خدا کا جلال کھلتا ہے وہ نیک کاموں اور ثابت قدمی اور وفاداری کے لئے بڑی قوت پاتا ہے اور درحقیقت اس کا شیطان مر جاتا ہے اور جلال الٰہی کی شعاعیں جو زندہ الہامات کے رنگ میں اور ہیبت ناک مکاشفات کی صورت میں اس کے دل پر پڑتی رہتی ہیں وہ اس کو ہر ایک تاریکی سے دور کھینچ کر لے جاتی ہیں۔ کیا تم ایسی بجلی کے نیچے جو جلانے والی اور مہلک پروں کو پھیلا رہی ہے کوئی بدکاری کا کام کر سکتے ہو؟ پس اسی طرح جو شخص خدا کی جلالی تجلّیات کے نیچے زندگی بسر کرتا ہے اس کی شیطنت مر جاتی ہے اور اس کے سانپ کا سر کچلا جاتا ہے۔ یہی ایک حقیقی طریق ہے جس کی برکت سے انسان فی الواقع پاک زندگی حاصل کر سکتا ہے۔ افسوس کہ عیسائیوں کو یہ دکھانا چاہیے تھا کہ یہ یقین ہستی باری جو انسان کو خدا ترسی کی آنکھ بخشتا ہے اور گناہ کے خس و خاشاک کو جلاتا ہے۔ اس کا سامان انجیل نے ان کو کیا بخشا ہے؟ بیہودہ طریقوں سے گناہ کیونکر دور ہو سکتا ہے؟ افسوس کہ یہ لوگ نہیں سمجھے کہ یہ کیسا ایک بے حقیقت امر اور ایک فرضی نقشہ کھینچنا ہے کہ تمام دنیا کے گناہ ایک شخص پر ڈالے گئے اور گنہگاروں کی *** ان سے لی گئی اور یسوع کے دل پر رکھی گئی۔ اس سے تو لازم آتا ہے کہ اس کارروائی کے بعد بجز یسوع کے ہر ایک کو پاک زندگی ا ور خدا کی معرفت حاصل ہوگئی ہے مگر نعوذ باللہ یسوع ایک ایسی *** کے نیچے دبایا گیا جو کروڑہا