اور اپنے پرستاروں کی آواز سنتا ہے تو چاہیے کہ اپنی جماعت کو جو ایک نامعقول عقیدہ پر بے وجہ زور دے رہی ہے اپنے آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے مدد دے۔ انسان تسلی پانے کے لئے ہمیشہ آسمانی نشانوں کے مشاہدہ کا محتاج ہے اور ہمیشہ روح اس کی اس بات کی بھوکی اور پیاسی ہے کہ اپنے خدا کو آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے دیکھے اور اس طرح پر دہریوں اور طبعیوں اور ملحدوں کی کشاکش سے نجات پاوے۔ سو سچا مذہب خدا کے ڈھونڈنے والوں پر آسمانی نشانوں کا دروازہ ہرگز بند نہیں کرتا۔ اب جب میں دیکھتا ہوں کہ عیسائی مذہب میں خدا شناسی کے تینوں ذریعے مفقود ہیں تو ؔ مجھے تعجب آتا ہے کہ کس بات کے سہارے سے یہ لوگ یسوع پرستی پر زور مار رہے ہیں۔ کیسی بدنصیبی ہے کہ آسمانی دروازے ان پر بند ہیں۔ معقولی دلائل ان کو اپنے دروازے سے دھکے دیتے ہیں اور منقولی دستاویزیں جو گذشتہ نبیوں کی مسلسل تعلیموں سے پیش کرنی چاہیے تھیں وہ ان کے پاس موجود نہیں مگر پھر بھی ان لوگوں کے دلوں میں خداتعالیٰ کا خوف نہیں۔ انسان کی عقلمندی یہ ہے کہ ایسا مذہب اختیار کرے کہ جس کے اصول خدا شناسی پر سب کا اتفاق ہو اور عقل بھی شہادت دے اور آسمانی دروازے بھی اس مذہب پر بند نہ ہوں۔ سو غور کر کے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں صفتوں سے عیسائی مذہب بے نصیب ہے اس کا خدا شناسی کا طریق ایسا نرالا ہے کہ نہ اس پر یہودیوں نے قدم مارا اور نہ دنیا کی اور کسی آسمانی کتاب نے وہ ہدایت کی۔ اور عقل کی شہادت کا یہ حال ہے کہ خود یورپ میں جس قدر لوگ علوم عقلیہ میں ماہر ہوتے جاتے ہیں وہ عیسائیوں کے اس عقیدہ پر ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عقلی عقیدے سب کلّیت کے رنگ میں ہوتے ہیں۔ کیونکہ قواعد کلّیہ سے ان کا استخراج ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک فلاسفر اگر اس بات کو مان جائے کہ یسوع خدا ہے تو چونکہ دلائل کا حکم کلّیت کا فائدہ بخشتا ہے اس کو ماننا پڑتا ہے کہ پہلے بھی ایسے کروڑ ہا خدا گذرے ہیں اور آگے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ باطل ہے۔