اور آسمانی نشانوں کی شہادت کا یہ حال ہے کہ اگر تمام پادری مسیح مسیح کرتے مر بھی جائیں تاہم ان کو آسمان سے کوئی نشان مل نہیں سکتا۔ کیونکہ مسیح خدا ہو تو ان کو نشان دے۔ وہ تو بے چارہ اور عاجز اور ان کی فریاد سے بے خبر ہے۔ اور اگر خبر بھی ہو تو کیا کر سکتا ہے۔
دنیا میں ایسا مذہب اور ان صفات کا جامع صرف اسلام ہے۔ ہر ایک مذہب کی خداشناسی کے اگر زوائد نکال دئیے جائیں اور مخلوق پرستی کا حصہ الگ کر دیا جائے تو جو باقی رہے گا وہی توحید اسلامی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی توحید سب کی مانی منائی ہے۔ پس ایسے لوگ کس قدر اپنے تئیں خطرہ میں ڈالتے ہیں کہ ایک امر کو جو مسلّم الکل ہے قبول نہیں کرتے اور ایسے عقیدوں کی پیروی کرتے ہیں کہ جو محض ان کے اپنے دعوے ہیں اور عام قبولیت سے خالی ہیں۔ اگر قیامت کے دن حضرت مسیح نے کہہ دیا کہ میں تو خداؔ نہیں تھا تم نے کیوں خواہ نخواہ میرے ذمہ خدائی لگا دی تو پھر کہاں جائیں گے اور کس کے پاس جاکر روئیں گے!!؟ خداتعالیٰ نے عیسائیوں کو ملزم کرنے کے لئے چار گواہ ان کے ابطال پر کھڑے کئے ہیں۔ اوّل یہودی کہ جو تخمیناً ساڑھے تین ہزار برس سے گواہی دے رہے ہیں کہ ہمیں ہرگز ہرگز تثلیث کی تعلیم نہیں ملی اور نہ کوئی ایسی پیشگوئی کسی نبی نے کی کہ کوئی خدا یا حقیقی طور پر ابن اللہ زمین پر ظاہر ہونے والا ہے۔ دوم حضرت یحییٰ کی اُ مّت یعنی یوحنّا کی اُ مّت جو اب تک بلاد شام میں موجود ہے جو حضرت مسیح کو اپنی قدیم تعلیم کے رو سے صرف انسان اور نبی اور حضرت یحییٰ کا شاگرد جانتے ہیں۔ تیسرے فرقہ موحّدہ عیسائیوں کا جن کا بار بار قرآن شریف میں بھی ذکر ہے جن کی بحث روم کے تیسری صدی کے قیصر نے تثلیث والوں سے کرائی تھی اور فرقہ موحّدہ غالب رہا تھا اور اسی وجہ سے قیصر نے فرقہ موحد کا مذہب اختیار کرلیا تھا۔ چوتھے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف جنہوں نے گواہی دی کہ مسیح ابن مریم ہرگز خدا نہیں ہے اور نہ خدا کا بیٹا ہے بلکہ خدا کا نبی ہے۔
اور علاوہ اس کے ہزاروں راستباز خداتعالیٰ کا الہام پاکر اب تک گواہی دیتے چلے