سے بھی مستند ہیں کہ وہ انبیاء علیہم السلام سے سنتے چلے آئے ہیں اور حضرت یحییٰ نبی کا ایک فرقہ جو بلاد شام میں اب تک پایا جاتا ہے وہ بھی عیسائیوں کے اس عقیدہ کے مخالف ہے اور یہودیوں کا مؤیّد ہے اور یہ اور دلیل اس بات پر ہے کہ عیسائی غلطی پر ہیں۔ غرض نقول کے رو سے عیسائیوں کا عقیدہ نہایت بودا ہے بلکہ قابل شرم ہے۔ رہا دوسرا ذریعہ شناخت حق کا جو عقل ہے سو عقل تو عیسائی عقیدہ کو دور سے دھکے دیتی ہے۔ عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ جس جگہ تثلیث کی منادی نہیں پہنچی ایسے لوگوں سے صرف قرآن اور توریت کی توحید کے رو سے مواخذہ ہوگا تثلیث کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ پس وہ اس بیان سے صاف گواہی دیتے ہیں کہ تثلیث کا عقیدہ عقل کے موافق نہیں کیونکہ اگر عقل کے موافق ہوتا تو جیسا کہ بے خبر لوگوں سے توحید کا مواخذہ ضروری ہے ایسا ہی تثلیث کا مواخذہ بھی ضروری ٹھہرتا۔ اب ان دونوں کے بعد تیسرا ذریعہ شناخت حق کا آسمانی نشان ہیں یعنی یہ کہ سچے مذہب کے لئے ضروری ہے کہ اس کا صرف قصوں اور کہانیوں پر سہارا نہ ہو بلکہ ہر ایک زمانہ میں اس کی شناخت کے لئے آسمانی دروازے کھلے رہیں اور آسمانی نشان ظاہر ہوتے رہیں تا معلوم ہو کہ اس زندہ خدا سے اس کا تعلق ہے کہ جو ہمیشہ سچائی کی حمایت کرتا ہے۔ سو افسوس کہ عیسائی مذہب میں یہ علامت بھی پائی نہیں جاتی بلکہ بیان کیا جاتا ہے کہ سلسلہ نشانوں اور معجزات کا آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے۔ اور بجائے اس کے کہ کوئی موجودہ آسمانی نشان دکھلایا جائے ان باتوں کو پیش کرتے ہیں کہ جو اس زمانہ کی نظر میں صرف قصّے اور کہانیاں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر یسوع نے کسی زمانہ میں اپنی خدائی ثابت کرنے کیلئے چند ماہی گیروں کو نشان دکھلائے تھے تو اب اس زمانہ کے تعلیم یافتہ لوگوں کو اُن اَن پڑھوں کی نسبت نشان دیکھنے کی بہت ضرورت ہے کیونکہ ان بیچاروں کو کسی طرح عاجز انسان کی خدائی سمجھ نہیں آتی اور کوئی منطق یا فلسفہ ایسا نہیں جو ایسے شخص کو خدائی کے دعویٰ کی ڈگری دے جس کی ساری رات کی دعا بھی منظور نہ ہو سکی اور جس نے اپنے زندگی کے سلسلہ میں ثابت کر دیا کہ اس کی روح کمزور بھی ہے اور نادان بھی۔ پس اگر یسوع اب بھی زندہ خدا ہے